.

مصر کے نئے وزیراعظم کا مظاہرے ختم کرنے کا مطالبہ

اب کام کا وقت آگیا،تعمیراور ترقی کی آواز زیادہ بلند آہنگ ہونی چاہیے:ابراہیم محلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے نئے وزیراعظم ابراہیم محلب نے ملک میں جاری ہر طرح کے مظاہرے اور ہڑتالیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ قوم کو تعمیر نو کے لیے ایک سانس مل سکے۔


انھوں نے یہ اپیل مصر کے سرکاری ٹیلی ویژن سے اتوار کو نشر کی گئی تقریر میں کی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''اب کام اور پیداواریت کا وقت آگیا ہے اور کوئی بھی آواز تعمیر اور ترقی سے زیادہ بلند آہنگ نہیں ہونی چاہیے''۔

ابراہیم محلب نے حلف برداری کے ایک روز بعد قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ ''سکیورٹی ان کی کابینہ کی اولین ترجیح ہے۔انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں قانونی طور پر انجام پائیں گی اور انسانی حقوق اور جمہوریت کے احترام کے ذریعے استحکام لایا جائے گا''۔

انھوں نے اعتراف کیا کہ ''میں اپنے اوپر عاید ہونے والی بھاری ذمے داری کو جانتا ہوں ،چیلنجز اس سے بھی بڑے ہیں لیکن ہم مل جل کر تمام بحرانوں کا مقابلہ کریں گے اور قوم کے جہاز کو سکیورٹی کے ساحل کی جانب لے جائیں گے''۔

مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے گذشتہ سوموار کو وزیراعظم حازم الببلاوی کی کابینہ کے اچانک استعفے کے بعد منگل کو سبکدوش وزیرمکانات ابراہیم محلب کو وزیراعظم نامزد کرکے نئی حکومت بنانے کی دعوت دی تھی۔

انھوں نے اپنی نامزدگی کے فوری بعد نیوزکانفرنس میں کہا تھا کہ وہ تین سے چار روز میں کابینہ تشکیل دے لیں گے اوران کی کابینہ کے ارکان مصری عوام کی خدمت مجاہد کے طور پر انجام دیں گے۔ملک میں امن وامان کی بحالی ان کی کابینہ کی اولین ترجیح ہوگی اور ملک کے کونے کونے سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔

ابراہیم محلب کو جولائی 2013ء میں منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد تشکیل پانے والی عبوری کابینہ میں وزیرمکانات بنایا گیا تھا اور وہ سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کی کالعدم جماعت نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے سابق عہدے دار بھی رہے تھے۔

وہ پیشے کے اعتبار سے سول انجینیر ہیں اور وہ مصر کی سب سے بڑی سول انجینیرنگ فرم عرب کنٹریکٹرز کمپنی کے چئیرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسرز رہ چکے ہیں۔وہ انگریزی اور فرانسیسی زبانیں روانی سے بول سکتے ہیں۔