.

بحرینی اپوزیشن خلیج کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے: خلفان

منامہ نے کئی گروپ دہشت گرد قرار دے دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحرین کی حکومت نے ملک میں افراتفری پھیلانے میں ملوث کئی تنظیموں کو دہشت گرد گروپ قرار دے کر ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حکم دیا ہے۔ دہشت گرد قرار دیے جانے والے گروپوں میں فروری 14 الائنس، الاشتر اور المقاومہ [مزاحمت] بریگیڈ جیسے گروپ شامل ہیں۔

منامہ کی جانب سے عسکریت پسندی کے الزام میں مختلف گروپوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے کہ جب بحرین ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کا شکار ہے۔ گذشتہ روز منامہ میں ایک بم دھماکے میں تین سیکیورٹی اہلکاروں اور اماراتی پولیس افسر طارق الشحی کو قتل کر دیا گیا۔

اس واقعے کے رد عمل میں دبئی کے سابق پولیس چیف جنرل ضاحی خلفان نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک میں بدمنی کے پیچھے ایران اور لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحرین میں دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے ماسٹر مائنڈ کو لبنان میں حزب اللہ نے جنگی تربیت فراہم کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بحرین کی اپوزیشن تمام خلیجی ملکوں کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔

درایں اثناء بحرینی فرمانروا کے خصوصی مشیر برائے اطلاعات نبیل الحمرنے کہا ہے کہ "بحرین کی شناخت ایک عرب ملک کی ہے جس کا اہل فارس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اپوزیشن جو کھیل تماشا لگانا چاہتی اسے دنیا کا کوئی بھی ملک قبول نہیں کرے گا۔"

بحرین میں دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے رد عمل میں خاتون صحافی اور تجزیہ نگار سوسن الشاعر نے العربیہ ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بحرین میں عسکریت پسندی کا آغاز فروری 2011ء میں ہوا۔ اس وقت کسی گروپ کو مرکزی حیثیت حاصل نہ تھی اور نہ ہی کوئی گروپ اپنا نام ظاہر کر رہا تھا۔ لیکن اپوزیشن جماعت "الوفاق" نے ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے پلیٹ فارم اور ماحول فراہم کیا۔ ایران اور حزب اللہ کی جانب سے شدت پسندوں کو دھماکوں کو تربیت فراہم کی گئی اور آج دہشت گرد زیادہ طاقتور ہو چکے ہیں.

خیال رہے کہ منامہ میں دھماکے کے نتیجے میں تین پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد ایک ویڈیو بھی انٹرنیٹ پر لوڈ کی گئی جس میں کچھ لوگوں کو اس کارروائی پر جشن مناتے دکھایا گیا ہے۔ تاہم ان کی شناخت نہیں کی جا سکی ہے۔