سفارتی تعطل، قطری معیشت کو اربوں ڈالر خسارے کا سامنا

'مشترکہ سرمایہ کاری کے کئی منصوبے کھٹائی میں پڑنے کا اندیشہ'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

خلیجی ریاست قطر سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے سفراء کی واپسی دوحہ کے لیے ہر اعتبار سے خسارے کا سودا ہے ہی لیکن اس کے نتیجے میں خطے میں قطری سایہ کاری کا مستقبل بھی داؤ پر لگتا دکھائی دے رہا ہے۔

مبصرین کے خیال میں پڑوسی ملکوں کے اس اقدام کے دیگر مُضمرات میں سے قطری معیشت سب سے زیادہ متاثر ہونے والا سیکٹر بن سکتا ہے۔ سفیروں کی واپسی سے قطر کی اقتصادی اصلاحات اور تجارت و ٹرانسپورٹ کی کارکردگی بہتر بنانے کی مساعی بھی بری طرح متاثر ہوں گی۔

کچھ ماہرین کے خیال میں قدرتی تیل اور گیس کی دولت سے مالا مال اس چھوٹے خلیجی ملک [قطر] کو سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے بائیکاٹ سے تجارتی شعبے میں فوری طور پر کوئی بڑی رکاوٹ نہیں آئے گی، البتہ مجموعی طور پر قطری معیشت پر منفی اثرات رفتہ رفتہ پڑنا شروع ہو جائیں گے۔

خلیجی ملکوں کے ساتھ قطر کے تجارتی روابط اور سرمایہ کاری میں کا بڑا منفی اثر خلیجی ملکوں کے مابین ریلوے لائن کے مجوزہ منصوبے پر بھی مرتب ہو گا، نیز دوحہ کے لیے خطے میں آزادانہ تجارت کافی حد تک رُک جائے گی۔ یوں کئی غیر ملکی بڑی سرمایہ کار کمپنیاں بھی قطر میں سرمایہ کاری سے گریز کریں گی جس کے نتیجے میں دوحہ اربوں ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری سے محروم ہو گا۔

خلیجی ممالک میں سرمایہ کاری کرنے والی ایک بڑی فرم "ماسک" کے عہدیدار جون سفاکیاناکس کا کہنا ہے کہ خلیجی ملکوں اور قطر کے درمیان سفارتی تعطل دوحہ کی پڑوسی ملکوں کے ساتھ تجارت پر فوری منفی اثرات تو نہیں ڈالے گا البتہ اس تعطل کے نتائج مہینوں اور سالوں میں ظاہر ہونا شروع ہوں گے، جو طویل مدت تک رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ خلیجی خطے میں قطر کو جس ممکنہ تنہائی کا سامنا ہے اس کے نتیجے میں مشترکہ سرمایہ کاری بُری طرح متاثر ہو گی اور کئی بڑے بڑے پراجیکٹ التواء کا شکار ہو جائیں گے۔

برطانوی خبر رساں ادارے "رائیٹرز" کے مطابق فی الحال سعودی عرب، بحرین اور یو اے ای نے سفارتی محاذ پر قطر کا بائیکاٹ کیا ہے اور یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ کیا ریاض، منامہ اور ابوظہبی دوحہ کا اقتصادی بائیکاٹ بھی کریں گے یا نہیں۔ بادی النظر میں ایسے لگ رہا ہے کہ خلیجی ممالک قطر کا اقتصادی بائیکاٹ نہیں کریں گے اور تجارتی سرگرمیاں بدستور جاری رہیں گی۔

اسی اُمید کا اظہار قطری نیشنل ایئر لائن کمپنی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اکبر البکر نے برلن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ "توقع ہے کہ خطے کے ممالک سیاسی معاملات کو تجارتی شعبوں میں خلط ملط نہیں ہونے دیں گے اور تجارتی سرگرمیاں جاری رکھیں گے"۔

بُدھ کو جب تین خلیجی ممالک نے دوحہ سے اپنی سفیروں کی واپسی کا اعلان کیا تو قطری بازار حصص دھڑام سے نیچے آ گرا۔ سفارتی تعطل کا یہ پہلا بڑا منفی اثر تھا جو فوری طور پر دیکھا گیا۔

خلیج تعاون کونسل کے غیر قطری تجزیہ نگاروں کے تجزیے کے مطابق قطری اسٹاک اکسچینج میں دوحہ کے ایک کھرب 75 ارب ڈالر کے حصص میں ان کے پانچ سے دس فی صد شیئرز ہیں۔ کل بدھ کو جب تین بڑے خلیجی ملکوں نے دوحہ کا سفارتی بائیکاٹ کیا تو قطری اسٹاک مارکیٹ کا انڈیکس 2.1 فی صد نیچے آ گرا تھا۔ مبصرین کے خیال میں دوحہ اسٹاک مارکیٹ میں ملک کی بڑی تجارتی فرموں کو بڑے پیمانے پر نقصان کا اندیشہ ہے۔ ان میں قطر نیشنل بنک بھی شامل ہے جسے مستقبل میں کسی بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سفارتی کشیدگی اور ممکنہ تجارتی بائیکاٹ کے دیگر مضمرات میں قطر کی ڈولفین پائپ لائن کا مستقبل بھی خطرے میں دکھائی دیتا ہے۔ اگر خلیجی ممالک دوحہ کا تجارتی بائیکاٹ کر دیتے ہیں تو قطر کی سلطنت اومان اور متحدہ عرب امارات کو یومیہ دو ارب مکعب فٹ گیس کی ترسیل بند ہو سکتی ہے۔

مبصرین یہ خیال بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ عین ممکن ہے کہ قطر خود ہی دوسرے خلیجی ممالک کے خلاف گیس کی تجارتی بائیکاٹ کو بطور ہتھیار استعمال کرے لیکن اس کےامکانات کم سے کم ہیں۔ قطری گیس کی ترسیل دوحہ اور دوسرے ممالک کی تجارتی ضرورت بھی ہے۔ متحدہ عرب امارات کی گیس کی 30 فی صد ضرریات کا پانچ فی صد قطری گیس سے پوری کی جا رہی ہیں۔

قطر اور بحرین بھی سمندر پر 40 کلومیٹر کے ایک پل کے ذریعے باہمی رابطے کے ایک منصوبے پر بھی غور کرتے رہیں۔ موجودہ فضاء میں اس منصوبے پر کسی قسم کی پیش رفت بھی خام خیالی دکھائی دیتی ہے۔ اس کے علاوہ خلیجی ممالک میں پندرہ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے ریلوے لائن کا منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑتا دکھائی دیتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں