.

اسرائیل کو صہیونی ریاست تسلیم نہیں کیا جائے گا: محمود عباس

صہیونی ریاست کو فلسطینی ریاست کی طرح ہی تسلیم کرنا ہو گا: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی صدر محمود عباس نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت اسرائیل کو بطور صہیونی ریاست تسلیم کریں گے اور نہ اسرائیل کے زیر قبضہ مقبوضہ بیت المقدس کے صرف ایک حصے پر فلسطینی ریاست کے دارالحکومت کے طور پر اکتفا کریں گے۔

فلسطینی صدر مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں اپنی جماعت فتح کے نوجوان کارکنان سے گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ماضی میں اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرانے کے لیے کوشش کے دوران انھوں نے بین الاقوامی دباؤ اور واشنگٹن کے اعتراضات کی مزاحمت کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ وہ ایک مرتبہ پھر پختہ عزم کے ساتھ کھڑے ہیں اور خاص طور پر وہ اسرائیل کو ایک صہیونی ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کریں گے۔محمود عباس نے کہا:''وہ دباؤ ڈال رہے ہیں کہ صہیونی ریاست کے بغیر امن نہیں ہوگا لیکن ہم اس کو کسی بھی طرح تسلیم نہیں کریں گے''۔البتہ انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ کون ان پر دباؤ ڈال رہا ہے۔

دوسری جانب انتہا پسند صہیونی وزیراعظم نیتن یاہو نے جمعہ کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ''میں آگے بڑھنے کو تیار ہوں،میں تنازعے کے خاتمے کے لیے تیار ہوں لیکن ہم فلسطینی ریاست کے قیام کی اجازت نہیں دیں گے کیونکہ یہ تنازعے کو جاری رکھے گی۔اس لیے اس کو صہیونی ریاست کو اسی طرح تسلیم کرنا ہوگا جس طرح وہ ہم سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں''۔

نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ صہیونی ریاست کو اس طرح تسلیم کیا جانا اس بات کا ثبوت ہوگا کہ فلسطینی قیام امن میں سنجیدہ ہیں۔ساتھ ہی انھوں نے یہ بھاشن بھی دیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس اسرائیل کی عمل داری ہی میں رہے گا۔

لیکن محمود عباس کا کہنا ہے کہ ''تنظیم آزادیٔ فلسطین (پی ایل او) 1993ء میں اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرچکی ہے اور یہی کافی ہے''۔ فلسطینی اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ اسرائیل صہیونی ریاست تسلیم کرنے کا مطالبہ دراصل فلسطینی مہاجرین کے حق واپسی کو محدود کرنے کے لیے کررہا ہے اور اس سے اسرائیل میں صدیوں سے آباد عرب اقلیت کے حقوق بھی متاثر ہوں گے۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن معاہدے سے متعلق بہت جلد اپنی تجاویز پیش کرنے والے ہیں لیکن اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ دونوں فریق ان کے مطالبات کو تسلیم کرلیں گے اور 29 اپریل کی ڈیڈلائن تک ان کے درمیان کوئی سمجھوتا طے پاجائے گا۔

فلسطینی صدر 17 مارچ کو امریکی صدر براک اوباما سے وائٹ ہاؤس واشنگٹن میں ملاقات کرنے والے ہیں جبکہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اسی ہفتے ان سے ملاقات کی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل اورفلسطینیوں کے درمیان امریکا کی ثالثی میں مذاکرات کا موجودہ دور جولائی 2013ء میں شروع ہوا تھا لیکن اب تک ان میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ فلسطینی دریائے اردن کے غربی کنارے کے علاقے، غزہ کی پٹی اور مشرقی القدس پر مشتمل اپنی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔اسرائیل نے ان علاقوں پر 1967ء کی جنگ میں قبضہ کیا تھا۔اب فلسطینی اس جنگ سے ماقبل کی سرحدوں میں اپنی ریاست کا قیام چاہتے ہیں اورامریکا بھی اس تجویز کا حامی ہے۔

لیکن نیتن یاہو اس کو مسترد کرچکے ہیں ۔تاہم انھوں نے کبھی سرحدوں سے متعلق اپنی تجاویز کو پیش نہیں کیا لیکن ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل مشرقی بیت المقدس پر اپنا قبضہ اور مغربی کنارے کی وادی اردن میں اپنی موجودگی برقراررکھنا چاہتا ہے۔اس طرح وہ غرب اردن میں قائم یہودی بستیوں سے انخلاء کو بھی تیار نہیں۔ ان کی حکومت نے غرب اردن میں یہودی بستیوں کی تعمیر بھی جاری رکھی ہوئی ہے اورسال 2013ء کے دوران یہودیوں کی آبادکاری کا عمل دُگنا تیز کر دیا گیا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان جاری مذاکرات کے نتیجے میں حتمی معاہدے سے قبل سکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دینے کی کوشش کررہے ہیں۔فلسطینی صدر محمود عباس اسرائیلی فوج کے غرب اردن سے مکمل انخلاء پر اصرار کررہے ہیں تاکہ علاقے میں بین الاقوامی فورسز کو تعینات کیا جا سکے۔ انھوں نے گذشتہ دنوں اسرائیلی فورسز کی جگہ نیٹو فوج کی تعیناتی کی تجویز بھی پیش کی تھی مگر اس تجویز کو غزہ کی پٹی کی حکمراں حماس نے مسترد کردیا تھا۔