.

مصری صدارتی انتخاب، غریب آدمی میدان سے آوٹ، نیا قانون منظور

صرف مصری شہری اور سابق فوجی انتخاب لڑ سکیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے آنے والے صدارتی انتخاب سے متعلق قوانین میں ترمیم کی منظوری دے دی ہے۔ یہ بات سرکاری ٹی وی نے بتائی ہے۔ اس قانون کی منظوری کے بعد انتخابی کمیٹی صدارتی انتخاب کی تاریخ مقرر کر سکے گی۔ خیال رہے صدارتی انتخاب ماہ اپریل میں متوقع ہے ۔

نئے قانون کے تحت الیکشن کمیشن کے اختیارات فیصلوں کو تحفظ دینے سے متعلق ہے۔ اس قانون کے منظور ہو جانے سے الیکشن کمیشن کے فیصلوں کو چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔ اس معاملے میں مصر کی دو اعلی عدالتوں نے مختلف پوزیشن لے رکھی ہے۔

اس قانون میں شرط عاید کی گئی ہے صدارتی امیدوار کی عمر کم از کم 40 سال ہو گی، وہ یونیورسٹی گریجوایٹ ہو گا ، فوج میں خدمات دے چکا ہو گا اور اس کے والدین مصری شہری ہوں گے۔

اس قانون کے تحت کوئی ایسا شخص جس نے غیر ملکی شہریت حاصل کر رکھی ہو گی، صدارتی امیدوار نہیں بن سکے گا۔ ایسا شخص بھی صدارت کیلیے نااہل ہو گا جس کی اہلیہ یا والدین غیر ملکی شہریت رکھتے ہوں گے۔ صدارتی امیدوار کے لیے ضروری ہو گا کہ اس نے 15 صوبوں سے 25000 ووٹرز سے اپنے حق میں دستخط حاصل کیے ہوں گے ۔

نیز یہ کہ وہ 28 لاکھ ڈالر کی رقم صدارتی مہم کیلیے رکھتا ہو گا ۔ صدارتی الیکشن کے لیے رن آف کی صورت میں لازم ہو گا کہ صدارتی امیدوار سات لاکھ ڈالر مزید رکھتا ہو۔

واضح رہے اس قانون کی منظوری کے بعد امکان ہے کہ فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی اپنے آپ کو بطور صدارتی امیدوار پیش کرنے میں دیر نہیں کریں گے۔