.

مصر میں انسانی حقوق کی صورتحال، اقوام متحدہ کی تشویش

پچھلے سال اگست میں بدترین کریک ڈاون کے بعد پہلی بار اظہار تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے انسانی حقوق کیلیے متحرک 27 ملکی انسانی حقوق کونسل نے مصری فوج کی حمایت سے قائم عبوری حکومت کے ہاتھوں اپوزیشن مظاہرین پر تشدد پر تشویش ظاہر کی ہے۔ عالمی ادارے کے اس پلیٹ فارم سے پچھلے سال اگست میں مظاہرین کیخلاف شروع کیے گئے سخت کریک ڈاون پر پہلی بار افسوس ظاہر کیا گیا ہے۔

واضح رہے اس 27 رکنی عالمی ادارے میں امریکا، برطانیہ ، فرانس، ترکی، بھی شامل ہیں۔ ان ممالک نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں تشویش طاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ'' مصری حکومت کو پچھلے مہینوں کی گئی اپنی کارروائیوں کے بارے میں آئئدہ دنوں ہونے والی تحقیقات کے بعد جوابدہ ہونا ہو گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسی تحقیقات عوام کے سامنے لائی جانی چاہییں۔''

انسانی حقوق کونسل کے ارکان نے کہا '' ہم مصر میں پرامن اجتماع کرنے، آزادی اظہار اور انجمن سازی کے مسلمہ بنیادی حقوق پر لگائی گئی پابندیوں پر اور ہلاک یا زخمی کیے گئے شہریوں کے حوالے سے تشویش ظاہر کرتے ہیں، ''اعلامیے میں مظاہرین کیخلاف سکیورٹی فورسز کی طرف سے ہلاکت خیز مواد استعمال کرنے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

اعلامیے میں یہ بھی زور دے کر کہا گیا ہے کہ ''سکیورٹی فورسز کی ذمہ داری ہے کہ حق اجتماع کا احترام کریں۔ حتی کہ جب سکیورٹی چیلنجز در پیش ہوں تب بھی احترام لازم ہے۔ '' انسانی حقوق سے متعلق کارکنوں نے اس اعلامیے کا خیر مقدم کیا ہے۔

جنیوا میں ہیومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹر جولی ریورو نے کہا '' مصری حکام اب بین الاقوامی کمیونٹی کے سامنے ہیں، اس لیے اب مصری سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاونز کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے مصر میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تقریبا ہر ہفتے تصادم کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ معزول کیے گئے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کے حامی ہر جمعہ کو مرسی کی بحالی کیلیے مظاہرہ کرتے ہیں۔