.

شامی فوج کے یبرود پرفضائی حملے میں چھے افراد ہلاک

داعش کا حزب اللہ کے گڑھ دو لبنانی قصبوں پر شام سے راکٹ حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج کے ہیلی کاپٹروں نے لبنان کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے یبرود پر بیرل بم برسائے ہیں جس کے نتیجے میں چھے افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

یبرود پر گذشتہ کئی ماہ سے باغیوں کا قبضہ ہے اور شامی فوج اس کا کنٹرول واپس لینے کے لیے حملے کررہی ہے۔برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق یبرود پر ہیلی کاپٹروں کے حملے کے بعد شامی فوج کے جنگی طیاروں نے پروازیں کی ہیں۔

ان فضائی حملوں سے ایک روز قبل ہی شامی صدر کی وفادار فوج اور لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے لڑائی میں سترہ باغی جنگجوؤں کو ہلاک کردیا تھا۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے بھی یبرود میں فوجی کارروائی کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ مسلح افواج نے یبرود میں متعدد کارروائیاں کی ہیں۔اس قصبے میں باغی جنگجوؤں کے خلاف شامی فوج کی کارروائی کا مقصد حمص اور دارالحکومت کے درمیان واقع مرکزی شاہراہ کو محفوظ بنانا اور لبنان کی وادی بقاع میں واقع قصبے عرسل تک باغیوں کی سپلائی لائن کو کاٹنا ہے۔

حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس کے خلاف لبنان میں یبرود سے ہی کار بم حملے کیے جارہے ہیں اور وہاں سے حملہ آور بھیجے جارہے ہیں۔درایں اثناء لبنانی فوج نے اطلاع دی ہے کہ شام سے فائر کیے گئے تین راکٹ دوقصبوں لیبوہ اور نبی عثمان میں گرے ہیں۔

تاہم ان سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ان دونوں قصبوں کو حزب اللہ کے مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔دولت اسلامی عراق وشام(داعش) نے اس راکٹ حملے کی ذمے داری قبول کی ہے اور ٹویٹر پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ یہ حملہ یبرود میں شامی فوج اور حزب اللہ کی مشترکہ کارروائی کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔

آبزرویٹری نے ایک اور اطلاع میں بتایا ہے کہ حمص کے علاقوں زارا اور حسن میں شامی فوج نے چودہ فضائی حملے کیے ہیں جبکہ وسطی صوبے حماہ میں جاری لڑائی میں چودہ سرکاری فوجی اور نو باغی مارے گئے ہیں۔الرقہ میں بھی سرکاری فوج اور داعش کے جنگجوؤں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔