.

مالکی کے الزامات سعودی عرب کی ناشکری ہیں: ایاد علاوی

عراقی وزیر اعظم سے استعفی، نگراں حکومت کے قیام کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے سابق وزیر اعظم ایاد علاوی نے موجودہ وزیر اعظم نوری المالکی کے سعودی عرب پر دہشت گردی کے فروغ سے متعلق الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاض خود دہشت گردی کے خلاف پوری قوت سے برسرپیکار ہے۔ وزیراعظم نوری المالکی بغیر ثبوت کے سعودی عرب اور دوسرے پڑوسی ملکوں پر دہشت گردی میں معاونت کی الزام تراشی کر رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بغداد میں "نیشنل الائنس" کے زیر اہتمام ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایاد علاوی نے کہا کہ سعودی عرب خود بھی پوری جرات اور عزم کے ساتھ دہشت گرد تنظیموں سے نبرد آزما ہے۔ ریاض پر دہشت گردی میں معاونت کے الزامات بلا جواز اور سعودی عرب کی ناشکری ہیں۔ ریاض نے خطے اور پوری دنیا میں دہشت گردی کےخلاف جنگ میں قابل قدر خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ایسا لگ رہا ہے کہ وزیراعظم سعودی عرب کے دہشت گردی کےخلاف تازہ فیصلوں سے آگاہ نہیں ورنہ وہ اس نوعیت کی الزام تراشی ہر گز نہ کرتے"۔ ان کا اشارہ سعودی عرب کی جانب سے اخوان المسلمون، القاعدہ، النصرہ محاذ اور دولت اسلامیہ عراق و شام "داعش" پر پابندیوں کی طرف تھا۔

عراقی اپوزیشن لیڈر ایاد علاوی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی انسداد دہشت گردی کی جنگ میں خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیے۔ وزیراعظم نوری المالکی الٹا ریاض کو دہشت گردی کے فروغ میں مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ کل ہفتے کے روز ایک فرانسیسی ٹی وی کو انٹرویو میں عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے الزام عائد کیا تھا کہ خطے میں ہونے والی دہشت گردی میں سعودی عرب اور قطر ملوث ہیں۔ شام اور عراق میں دہشت گردی میں ملوث عناصر کو ان دونوں عرب ملکوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔

ایاد علاوی نے نوری المالکی سے فوری استعفیٰ دینے اور عبوری حکومت کی تشکیل کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عراق اس وقت ایک چوراہے پر کھڑا ہے۔ موجودہ حکومت آزادانہ اور شفاف انتخابات کی صلاحیت رکھتی ہے اور نہ وہ ایسا چاہتی ہے۔

سابق وزیراعظم نے اپنے اوپرملک میں دہشت گردی کی معاونت کے الزامات بھی یکسر مسترد کردیے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں سیاسی اسلام اورمذہبی شدت پسندی کےخلاف ہوں۔ میرے حوالے سے جو غلط باتیں پھیلائی جا رہی ہیں ان میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

ایاد علاوی نے وزیراعظم نوری المالکی کی جانب سے سخت گیرشیعہ رہ نما مقتدیٰ الصدر کے سیاست سے نابلد ہونے کے الزامات کی بھی مذمت کی اور کہا کہ الصدر نے ملک وقوم کے لیے قربانیاں دی ہیں،انہیں فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے الانبار، فلوجہ، کربلا، نجف اور ناصریہ میں پرامن مظاہرین کو دہشت گرد قرار دینے کے بیان کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ حکومت پرامن مظاہرین کے مطالبات پورے کرنے کے بجائے انہیں طاقت کے ذریعے کچلنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔

سابق وزیراعظم نے ملک میں فوری اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے عبوری حکومت کے قیام پرزور دیا۔ انہوں نےکہا کہ نوری المالکی کا خائن اور بدمعاش ٹولہ ناکام ہوچکا ہے اور ملک چلانا اب ان کے بس میں نہیں۔