.

نیتن یاہو نے یہودی بستیاں منجمد کرنے کی مخالفت کردی

ماضی میں یہودی تعمیرات منجمد کرنے سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا تھا:انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے لیے مکانوں کی تعمیر منجمد کرنے کی مخالفت کردی ہے اور کہا ہے کہ ان تعمیرات کو منجمد کرنے سے کچھ بھی نہیں ہوگا۔

نیتن یاہو نے اسرائیل کے سرکاری ریڈیو کے ساتھ اتوار کو گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہم ماضی میں بھی ایک مرتبہ یہودی آبادکاری کا عمل منجمد کرچکے ہیں لیکن اس سے کوئی نتائج برآمد نہیں ہوئے تھے''۔وہ 2010ء میں فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ امریکا کی ثالثی میں مذاکرات کے پہلے دور کے وقت دس ماہ کے لیے یہودی بستیوں کی تعمیر منجمد کرنے کا حوالہ دے رہے تھے۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری کی ثالثی میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان گذشتہ سال جولائی سے امن مذاکرات جاری ہیں لیکن اب تک ان میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔جان کیری فریقین کے درمیان امن معاہدے سے متعلق بہت جلد اپنی تجاویز پیش کرنے والے ہیں۔تاہم اس بات کا کم امکان ہے کہ فریقین ان کی تجاویز کو من وعن تسلیم کرلیں گے اور 29 اپریل کی ڈیڈلائن تک ان کے درمیان کوئی حتمی سمجھوتا طے پاجائے گا۔

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان بدستور بڑے متنازعہ امور پر اختلافات موجود ہیں۔ان کے درمیان سرحدوں کی سکیورٹی ،غرب اردن میں یہودی آبادکاروں کی بستیوں، مقبوضہ القدس کے مستقبل اور گذشتہ چھے عشروں سے زائد عرصے سے دربدراور پناہ گزین کیمپوں میں مقیم فلسطینی مہاجرین کی واپسی کے حق کے بارے میں کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔

اسرائیلی حکومت نے سالِ گذشتہ کے دوران غرب اردن کے علاقے اور مقبوضہ القدس میں یہودی آبادکاروں کے لیے مکانوں کی تعمیر کا عمل تیز کردیا تھا اور خود اسرائیل کے ادارہ شماریات کی جانب سے حال ہی میں شائع کردہ اعداد وشمار کے مطابق گذشتہ سال مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے لیے تعمیرات میں 7۔123فی صد اضافہ ہوا ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ اسرائیل اگر مزید قیدیوں کو رہا نہیں کرتا اور یہودی آبادکاری کا عمل جاری رکھتا ہے تو ہم مذاکرات میں توسیع سے اتفاق نہیں کریں گے۔دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بات چیت میں توسیع کے لیے اسرائیلی اور فلسطینی دستخطوں کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ اس کے لیے تو محض امریکی دستاویز کی درکار ہوگی مگر ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ مجھے یہ یقین نہیں کہ فلسطینی اس کو قبول کریں گے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے اگلے روز واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں اسرائیل کو بطور صہیونی ریاست تسلیم کریں گے اور نہ اسرائیل کے زیر قبضہ مقبوضہ بیت المقدس کے صرف ایک حصے پر فلسطینی ریاست کے دارالحکومت کے طور پر اکتفا کریں گے۔ فلسطینی صدر 17 مارچ کو امریکی صدر براک اوباما سے وائٹ ہاؤس (واشنگٹن) میں ملاقات کرنے والے ہیں جبکہ نیتن یاہو نے گذشتہ ہفتے صدر اوباما اور وزیرخارجہ جان کیری سے ملاقات کی تھی۔