.

حماس نے غزہ میں فتح کا اجتماع زبردستی منتشر کردیا

فتح کے کارکنان نے بلااجازت اجتماع منعقد کیا تھا:ترجمان وزارت داخلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت فتح کے کارکنان نے غزہ کی حکمراں حماس کے سکیورٹی اہلکاروں پر اپنے ایک اجتماع کو زبردستی منتشر کرنے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ انھیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔

حماس کے تحت وزارت داخلہ کے ایک عہدے دار ایاد البوزوم نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ کی پٹی کے قصبے خان یونس میں ہفتے کی رات فتح کے کارکنان چاردیواری میں ایک غیر قانونی اجتماع منعقد کررہے تھے اور اس وجہ سے انھیں منتشر کردیا گیا ہے کیونکہ ان کے پاس اجتماع کے لیے کوئی اجازت نامہ نہیں تھا اور انھوں نے سکیورٹی اہلکاروں پر حملہ آور ہونے کی بھی کوشش کی تھی۔

دوسری جانب فتح کے ترجمان حسان احمد نے کہا ہے کہ حماس کے سکیورٹی اہلکاروں نے اجتماع کے شرکاء کو مارا پیٹا اور انھیں کچھ دیر کے لیے حراست میں لے لیاتھا۔ تاہم بعد میں انھیں رہا کردیا گیا۔

گذشتہ کئی ماہ کے بعد غزہ میں حماس اور فتح کے درمیان تشدد آمیز جھڑپ کا یہ پہلا واقعہ ہے اور اس سے ایک مرتبہ پھر یہ بات عیاں ہوگئی ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان مصالحتی کوششوں کے باوجود کشیدگی بدستور موجود ہے۔

واضح رہے کہ حماس اور فتح کے درمیان 2007ء سے کشیدگی چلی آرہی ہے۔تب فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل اور مغربی ممالک کے دباؤ میں آ کر حماس کی منتخب حکومت کو ختم کردیا تھا جس کے ردعمل میں حماس نے غزہ کی پٹی میں اپنی الگ حکومت قائم کرلی تھی اوروہاں سے فتح کے کارکنان کو ماربھگایا تھا۔

اس کے بعد سے دونوں جماعتوں کے درمیان مصالحت کے لیے متعدد کوششیں کی گئی ہیں اور مصر نے 2011ء میں ان کے درمیان ایک مصالحتی معاہدہ بھی کرایا تھا جس کے تحت دونوں جماعتوں نے آزاد ماہرین پر مشتمل نگران حکومت کے قیام اور فلسطینی علاقوں میں نئے صدارتی ،پارلیمانی اور بلدیاتی انتخابات کرانے سے اتفاق کیا تھا لیکن اب تک اس معاہدے پر عمل درآمد کی نوبت نہیں آئی ہے۔

اسرائیل نے گذشتہ قریباً آٹھ سال سے غزہ کی پٹی کی برّی ،بحری اور فضائی ناکہ بندی کررکھی ہے اور اب مصر کی فوجی حکومت نے غزہ کے ساتھ رفح بارڈر کراسنگ بھی بند کردی ہے جس کی وجہ سے غزہ کے مکین فلسطینی اور حماس کی حکومت مزید مشکلات سے دوچار ہوگئے ہیں۔