.

عرب لیگ کا اسرائیل کو صہیونی ریاست ماننے سے انکار

اسرائیلی مطالبہ امن مذاکرات کو ناکام کرنے کی کوشش ہے:نبیل العربی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل نبیل العربی نے عرب ممالک پر زوردیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خود کو صہیونی ریاست تسلیم کرنے سے متعلق فلسطینیوں سے مطالبے کے بارے میں ایک پختہ موقف اختیار کریں۔

نبیل العربی اتوار کو قاہرہ میں عرب وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے اسرائیل کے نئے مطالبے کو امریکا کی ثالثی میں جاری امن مذاکرات کے لیے طے شدہ فریم ورک سے انحراف قراردیا ہے۔

ان سے قبل فلسطینی صدر محمود عباس بھی اسرائیل کو صہیونی ریاست کے طور پرتسلیم کرنے سے انکار کر چکے ہیں جبکہ انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں فلسطینیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو صہیونی ریاست کے طور پر تسلیم کیا جائے۔

ڈاکٹر نبیل العربی نے اس مطالبے کو امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش قراردیا ہے اور مذاکراتی عمل کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری کی ثالثی میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان گذشتہ سال جولائی سے امن مذاکرات جاری ہیں لیکن اب تک ان میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔جان کیری فریقین کے درمیان امن معاہدے سے متعلق بہت جلد اپنی تجاویز پیش کرنے والے ہیں۔تاہم اس بات کا کم امکان ہے کہ فریقین ان کی تجاویز کو من وعن تسلیم کرلیں گے اور 29 اپریل کی ڈیڈلائن تک ان کے درمیان کوئی حتمی سمجھوتا طے پاجائے گا۔

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان بڑے متنازعہ امور پر اختلافات بدستور موجود ہیں۔ان کے درمیان اب تک سرحدوں کی سکیورٹی ،غرب اردن میں یہودی آبادکاروں کی بستیوں، مقبوضہ القدس کے مستقبل اور گذشتہ چھے عشروں سے زائد عرصے سے دربدراور دوسرے ممالک میں پناہ گزین کیمپوں میں مقیم فلسطینی مہاجرین کی واپسی کے حق کے بارے میں کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں اسرائیل کو بطور صہیونی ریاست تسلیم کریں گے اور نہ اسرائیل کے زیر قبضہ مقبوضہ بیت المقدس کے صرف ایک حصے پر فلسطینی ریاست کے دارالحکومت کے طور پر اکتفا کریں گے۔ فلسطینی صدر 17 مارچ کو امریکی صدر براک اوباما سے وائٹ ہاؤس (واشنگٹن) میں ملاقات کرنے والے ہیں جبکہ نیتن یاہو نے گذشتہ ہفتے صدر اوباما اور وزیرخارجہ جان کیری سے ملاقات کی تھی۔

محمود عباس کا کہنا ہے کہ ''تنظیم آزادیٔ فلسطین (پی ایل او) 1993ء میں اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرچکی ہے اور یہی کافی ہے''۔ فلسطینی اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ اسرائیل صہیونی ریاست تسلیم کرنے کا مطالبہ دراصل فلسطینی مہاجرین کے حق واپسی کو محدود بلکہ مسدود کرنے کے لیے کررہا ہے اور اس سے اسرائیل میں صدیوں سے آباد عرب اقلیت کے حقوق بھی متاثر ہوں گے۔