.

سعودی شہری کو ٹیوٹر کے ذریعے مظاہروں پر اکسانے کی سزا

عدالت نے ملزم کے سوشل میڈیا کے استعمال پر ہمیشہ کے لیے پابندی عاید کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی ایک فوجداری عدالت نے سعودی شہری کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ "ٹیوٹر" کے ذریعے حکومت مخالف مظاہروں پر اکسانے کی پاداش میں آٹھ سال قید اور اس کا ٹیوٹر اکاؤنٹ بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق آج [اتوار] کو ریاض کی ایک فوجداری عدالت میں سعودی سوشل میڈیا ورکر کے مقدمہ کی سماعت کی گئی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم نے سیکیورٹی اداروں کے زیر حراست افراد کوحکومت اور ریاستی اداروں کے خلاف مظاہروں کی اپیل کے ساتھ ساتھ انہیں "ٹیوٹر" کے ذریعے پیغام بھیجا تھا کہ وہ مظاہروں اور دیگر سرگرمیوں کو سوشل میڈیا تک پہنچانے اور یو ٹیوب کے ذریعے ویڈیو کی مدد سے احتجاجی مظاہروں کی تشہیر کی کوشش کریں۔

عدالتی فیصلے کے مطابق ملزم کو ماضی میں بھی سوشل میڈیا کے ذریعے اشتعال پھیلانے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔ مشروط طور پر رہائی کے بعد اس نے دوبارہ اسی جرم کا ارتکاب کیا۔ مُلزم کا یہ اقدام عدالت کی توہین، ادارے کے فیصلوں اور ولی الامر کا تمسخر اڑانے کے مترادف ہے۔

ملزم نے علماء اور اعلٰٰی عدالتوں کے فاضل ججوں پر تنقید کے ساتھ ساتھ سماجی رابطے کی ویب سائٹس کی مدد سے تکفیری نظریات کے فروغ کی کوشش کی۔ پہلی مرتبہ اسے رہا کیا گیا۔ دوبارہ گرفتار کیا گیا تو وہ فرار ہو گیا تھا۔ فرار کے وقت اس نے جیل حکام پرحملے کی بھی کوشش کی۔ فرار کے دوران یہ ایک کار سے بھی ٹکرایا اور اپنی حقیقت چھپانے کے لیے اپنا موبائل فون توڑ دیا۔

ان تمام الزامات کے ثبوت کے بعد ملزم کو آئین کی دفعہ چھ کے تحت آٹھ سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی جاتی ہے۔ قید کی سزاء کے خاتمے کے بعد بھی ملزم سماجی رابطے کی ویب سائٹس استعمال نہیں کر سکے گا اور نہ ہی اسے بیرون ملک سفر کی اجازت ہو گی۔