.

"ایرانی بحری جہاز سے راکٹ اور مارٹر گولے برآمد ہوئے"

بحری جہاز اہالیاں غزہ کیلیے اشیائے خورو نوش لا رہا تھا: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے غزہ کے شہریوں کیلیے امدادی سامان کے ساتھ آنے والے ایرانی بحری جہاز کے ذریعے ایک سو ساٹھ کلومیٹر تک مار کرنے والے 40 راکٹ غزہ منتقل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس نے ایرانی بحری جہاز کو بدھ کے روز بحر احمر اور سوڈان کے درمیان سمندر میں روک لیا تھا۔ اس جہاز پر پانامہ کا پرچم لہرا رہا تھا۔

بعد ازاں اتوار کے روز بندرگاہ پر اس کی تلاشی لی گئی اور اس سے ''پورے اظہار'' کے نام سے کیے گئے آپریشن کے تحت سامان اتارا گیا۔ اس دوران 40 ایم 302 قسم کے راکٹ جن کی رینج ایک سو ساٹھ کلومیٹر ہے اور 181 کی تعداد میں 122 ایم ایم کے مارٹر گولے اور تقریبا چار سو گولیاں برآمد ہوئیں۔

اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل بینی گانتز کے بقول اس جہاز سے ملنے والا ہر راکٹ اور ہر گولی اسرائیلی شہریوں کیلیے خطرہ لیے ہوئے تھا۔ انہوں نے یہ بات ''آپریشن پورا اظہار'' میں حصہ لینے والے فوجیوں سے بات کرتے ہوئے کیا ہے۔

دوسری جانب ایران نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ اشیائے خورو نوش کے بجائے اس بحری جہاز میں راکٹ اور گولیاں لے جائی جا رہی تھیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے اسے بے حیائی سے بولا گیا جھوٹ قرار دیا ہے۔

واضح رہے ایرانی بحری جہاز کی تلاشی کے آپریشن میں اسرائیل کی مشترکہ ٹاسک فورس کے اہلکاروں نے حصلہ لیا، ان میں بحریہ، انجیئنرنگ کور، آرڈیننس کور وغیرہ شامل تھیں۔