سعودی عرب: الباہا کا قدیمی قبرستان ہموار کرنے کا فیصلہ

شہریوں میں اشتعال، سورج کے پجاریوں کی قبریں بھی موجود ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے جنوبی شہر الباہا میں مذہبی پولیس کی جانب سے ایک قدیمی قبرستان کو ہموار کرنے کے فیصلے کے خلاف عوام میں اشتعال پیدا ہو گیا ہے۔ مذہبی پولیس نے یہ فیصلہ قبروں پر بنے پختہ گنبدوں کی وجہ سے کیا ہے۔

امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے شعبے کی طرف ایسی چیزوں کو ہٹایا گیا ہے جو لوگ اپنے ورثے کے طور پر اسلامی سمجھ کر جاری رکھے ہو ئے ہیں۔ حالانکہ اسلام پختہ قبروں اور گنبدوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا ہے۔

اس سلسلے میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے کمیشن ، میونسپلٹی پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو زینت نامی قبرستان کے معاملے کا جائزہ لے گی۔

شہریوں نے مذہبی پولیس پر الزام لگایا ہے کہ یہ ادارہ تین ہزار سالہ قدیمی اور تاریخی قبرستان کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ بعض شہریوں کا موقف ہے کہ یہ قبرستان شہر کا ورثہ ہے، اس کی حفاظت کی جانی چاہیے۔

مورخ سعد الکاموخ کے مطابق اس قبرستان میں ایسے لوگ بھی دفن ہیں جن کے بارے میں گمان ہے کہ سورج کی پوجا کرتے تھے۔ کیونکہ اکثر قبروں کا رخ مشرق کی طرف ہے۔

بہت ساری قبریں اتنی قدیم ہیں ان کا رخ قبلہ اول بیت المقدس کی طرف ہے۔ بعض قبروں پر عربی کا قدیمی رسم الخط تحریر ثبت ہے۔ آثار قدیمہ کے ماہر احمد قشاش نے کہا '' 1500 سے زائد اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبریں بھی اس قبرستان میں موجود ہیں۔ ان کی قبروں کو نہیں چھیڑا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں