.

اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں فلسطینی کو 12 سال قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے زیر نگین فلسطینی علاقے غزہ کی پٹی میں قائم فوجی عدالت نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک فلسطینی شہری کو بارہ سال قید کی سزا کا حکم دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق غزہ کی فوجی عدالت نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر اپنے گوشے میں جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ 08 مارچ 2014 بروز اتوار اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں پکڑے گئے ایک ملزم کو جُرم ثابت ہونے پر بارہ سال قید کی سزا دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ حماس سنہ 2007ء سے غزہ کی پٹی پر حکومت کر رہی ہے۔ حماس کی حکومت نے اب تک کئی اسرائیل نواز عناصر اور مخبروں کو پکڑ کر جیلوں میں ڈالا. سنہ 2010ء میں اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں دو افراد کو سزائے موت دے دی گئی تھی۔

انسانی حقوق کی تنظیم مرکز برائے فلسطینی حقوق کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 1994ء میں فلسطینی اتھارٹی کے قیام کے بعد غزہ کی پٹی میں مجموعی طور پر 30 افراد کو پھانسی دی گئی ہے۔ ان میں آٹھ افراد کو اسرائیل کے لیے جاسوسی اور نو کو دیگر مختلف نوعیت کے جرائم میں پھانسی دی گئی۔

واضح رہے کہ فلسطینی قانون کی رُو سے اسرائیل کے لیے جاسوسی، قتل عمد اور منشیات کا کاروبار جیسے جرائم کی سزا موت ہے۔ کسی بھی مجرم کی سزا پر عمل درآمد کا حتمی فیصلہ صدر کے اختیار میں ہے لیکن حماس سنہ 2009ء کے بعد محمود عباس کو آئینی صدر تسلیم نہیں کرتی۔