.

سابق مصری فوجی سربراہ اور متوقع صدارتی امیدوار پر قاتلانہ حملہ

سمیع عنان گھر جا رہے تھے، گاڑی پر سوار افراد نے فائرنگ کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے سابق فوجی سربراہ اور متوقع صدارتی انتخابات میں امکانی مضبوط امیدوار سمیع عنان قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے ہیں۔ واضح رہے سابق جنرل نے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کے ساتھ بھی کچھ عرصہ بطور فوجی سربراہ کا کیا تھا۔

سمیع عنان نے '' العربیہ '' کو بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے ایک گاڑی پر ان کا پیچھا کیا اور ان پر فائر کھول دیا لیکن وہ بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔ اس سے پہلے سمیع عنان کے ایک ترجمان نے بتایا تھا کہ سابق فوجی سربراہ مصر کے متوقع صدارتی انتخابات میں موجودہ فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کے مقابل امیدوار ہوں گے۔

ترجمان نے بتایا دو گاڑیوں نے ان کا پیچھا کیا تا کہ انہیں نقصان پہنچا سکیں، تاہم متوقع صدارتی امیدوار ان سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے ہیں۔ سمیع عنان کا جب مشکوک گاڑیوں پر سوار افراد نے پیچھا کیا وہ اپنے گھر کی طرف جا رہے تھے۔

سابق جنرل کے بچ نکلنے میں ان کے ڈرائیور کی چابکدستی کام آئی اور وہ انہیں حملہ آوروں سے بچا کر لے آیا۔ سمیع عنان کا کہنا ہے کہ اس سارے واقعے کے بارے میں تفصیلی بیان بعد میں ان کے دفتر کی طرف سے جاری کیا جائے گا۔ فوری طور پر حملے کا الزام کسی پر نہیں لگایا گیا ہے۔