.

قطر: خارجہ پالیسی پر کوئی بات نہیں سن سکتے، خالد العطیہ

ایک مرتبہ پھر قطر کا آزاد خارجہ پالیسی پر اصرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطری حکومت نے ایک مرتبہ پھر تین خلیجی ریاستوں کی طرف سے خارجہ پالیسی تبدیل کرنے کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔ قطر کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اپنی آزاد خارجہ پالیسی پر کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہیں۔ اس لیے مصری اخوان المسلمون طرز کے اسلام پسند گروپوں کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔

ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے سعودی عرب ، امارات اور بحرین نے 5 مارچ کو قطر سے اپنے سفیروں کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔ اس موقع پر تینوں ملکوں نے الزام عاید کیا تھا کہ قطران اصولوں کی پاسداری کرنے میں ناکام ہے جو دوسرے عرب ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے سے متعلق ہیں۔

سفیر واپس بلانے والے تینوں عرب ممالک کو اعتراض ہے کہ قطر مصر کی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کی حمایت کرتا ہے جو عرب دنیا میں خاندانی حکومتوں کے روائتی نظام کے حق میں نہیں ہے۔ قطر کے سرکاری خبر رساں ادارے نے قطری وزیر خارجہ خالد العطیہ کی پیرس میں کی گئی ایک تازہ تقریر کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ '' قطر اپنے فیصلے خود کرتا ہے اور اپنا راستہ خود متعین کرتا ہے۔ '' انہوں نے مزید کہا یہ میرا پختہ یقین ہے کہ قطر کی آزاد خارجہ پالیسی پر کوئی کلام نہیں ہو سکتا۔''

قطر کے وزیر خارجہ نے کہا '' اس لیے میں یہ سختی سے کہوں گا کہ سعودی عرب، امارات اور بحرین کا اس چیز سے کوئی تعلق نہیں ہے، بین الاقوامی ایشوز کے حوالے سے ہمارا واضح فرق ہے۔'' پچھلے ہفتے قطری حکومت کے ایک قریبی ذریعے نے کہا تھا '' قطری ریاست کے قیام کے ساتھ ہی یہ طے کر لیا گیا تھا کہ پناہ کیلیے کوئی بھی آئے گا تو اسے انکار نہیں کیا جائے گا اور اس کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ اس لیے علامہ یوسف قرضاوی سمیت اخوان کے ان مہمانوں کو نکالنے کیلیے کوئی دباو قبول نہیں ہے۔

قطری وزارت خارجہ کے ذرائع نے کہا تھا یہ ہر خود مختار ملک کا حق ہے کہ وہ اپی مرضی کی خارجہ پالیسی بنائے۔ تاہم ان ذرائع نے واضح کیا کہ قطر کے خلیجی ممالک کے معاملات کے بارے میں کسی سے کوئی اختلافات نہیں ہیں۔

وزیر خارجہ قطر نے کہا '' خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ عرب ملکوں میں عدل اور حریت کی عوامی خواہشات کی حمایت کی جائے۔'' واضح رہے 2011 کی عرب بہاریہ میں اسلام پسند نمایاں ہو کر سامنے آئے ہیں۔