.

لیبیا : حکومت کا تیل بردار کورین بحری جہاز پر قبضہ

پارلیمنٹ کیطرف سے بندرگاہوں کا کنٹرول واپس لینے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی حکومت کے حامی مسلح افراد نے شمالی کوریا کے پرچم والے تیل بردار بحری جہاز پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ یہ جہاز میسوراتہ شہر کی بندرگاہ سے تیل لے کر جانے کی کوشش میں تھا کہ علاقائی ملیشیا نے اس پر قبضہ کر لیا۔

لیبیا کے انقلابی آپریشنز روم سے وابستہ عدیل الطرحونی نے میڈیا کو بتایا کہ جہاز کے کپتان نے پیر کی رات خود کو ملیشیا کے حوالے کر دیا. اس سلسلے میں آپریشن دو دن جاری رہا اور اب اس جہاز کو سرکاری بحری جہاز اور دوسری کشتیوں نے محاصرے میں لے لیا ہے۔

واضح رہے السدرہ لییا کا تیل کی برآمد کے حوالے سے ایک اہم ٹرمینل ہے۔ اس ٹرمینل کو مشرقی ملیشیا نے کئی ماہ پہلے قبضے میں لے لیا تھا۔ یہ گروپ زیادہ علاقائی خود مختاری کا حامی ہے۔ اس گروپ سے وابستہ عیصام الجہانی نے تیل بردار جہاز پر کنٹرول کر کے حکومتی ملیشیا کے دعوے کی تردید کی ہے اور حکومتی ملیشیا کے کچھ ارکان کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔

دریں اثناء پارلیمنٹ نے ایک خصوصی فورس کو حکم دیا ہے کہ مسلح افراد سے تمام بندر گاہیں ایک ہفتے کے اندر اندر خالی کرائی جائیں۔ لیبیا میں تیل کے وسائل پر کنٹرول کیلیے حکومت اور مسلح گروپوں کے درمیان جھگڑا پھیل رہا ہے۔ اب تک باغیوں نے تین بندرگاہوں کو قبضہ میں کر رکھا ہے۔

اس سلسلے میں پارلیمنٹ کے سربراہ نے ایک خصوصی فورس کی تشکیل کا حکم بھی دیا ہے۔ اس فورس میں سرکاری فوجی اہلکار اور اتحادی ملیشیاوں کے لوگ شامل ہوں گے ، تا کہ تمام بندرگاہوں کا کنٹرول واپس لیا جاسکے۔ ان احکامات کی روشنی میں آپریشن ایک ہفتے میں شروع ہونے کا امکان ہے۔

واضح رہے لیبیا کے مطلق العنان حکمران معمر قذافی کے 2011 میں اقتدار اور زندگی کے خاتمے سے اب تک لیبیا میں مسلح گروپوں کے اثرات میں کمی نہیں آئی ہے۔ بلکہ حکومت کیلیے ایک چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ قذافی کا آبائی شہر سیرت اسلام پسند عسکریت پسندوں کا مضبوط مرکز بنا ہوا ہے۔