.

'ویٹو' سے عالمی دہشت گردی میں اضافہ ہوا: مصری قانون دان

عالمی طاقتیں دنیا میں قیام امن کے اہداف کے حصول میں ناکام رہی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے ایک ممتاز قانون دان اور جامعہ الازھر کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب کے قانونی مشیر ڈاکٹر محمد مہنا نے اقوام متحدہ میں عالمی طاقتوں کے"ویٹو" کے اختیار کو دنیا بھر میں دہشت گردی کے فروغ کا موجب قرار دیتے ہوئے امریکا اور دیگر ویٹو پاور کے حامل ممالک پر کڑی تنقید کی ہے۔

ڈاکٹر المہنا کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل میں معاونت کے بجائے اسرائیل کے حق میں بار بار "ویٹو" پاور کا استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں نہ صرف خطے میں بلکہ پوری دنیا میں دہشت گردی کے فروغ میں اضافہ ہوا اور شدت پسندی کو انڈے بچے دینے کا مزید موقع فراہم کیا گیا۔

العربیہ کے برادر ٹیلی ویژن "الحدث" سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر مہنا نے جامعہ الازھر کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب کی بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کی خدمات کی تعریف کی۔ انہوں نے کہاکہ شیخ الازھر نے ابوظہبی میں "عالمی معاشروں میں امن وامان کے فروغ" کے موضوع پر منعقدہ فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسلام کا حقیقی اور روشن چہرہ پیش کیا ہے۔

انہوں نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ عالمی طاقتیں دنیا میں قیام امن کے اہداف کے حصول میں ناکام رہی ہیں۔ اس ضمن میں ڈاکٹر الطیب نے اقوام متحدہ کی پالیسیوں کو خاص طور پر ہدف تنقید بنایا۔

ڈاکٹر مہنا نے بتایا کہ ابوظہبی فورم میں جامعہ الازھر کے سربراہ نے اقوام عالم کے مابین دوستی، بھائی چارے، امن و محبت اور ڈائیلاگ کے کلچر کو عام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے عالم اسلام کے علماء اور سیاست دانوں کے درمیان رابطوں کو فروغ دینے کا بھی مطالبہ کیا۔