.

"حق واپسی " سے دستبرداری تک امن سمجھوتا ناممکن: یاھو

فلسطینیوں کو اسرائیل کا "یہودی تشخص" تسلیم کرنا ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے کہا ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کی دوبارہ ان کے آبائی علاقوں میں واپسی کے حق سے دستبرداری اور اسرائیل کو "یہودی ریاست" تسلیم کئے جانے تک کوئی بھی امن سمجھوتا ممکن نہیں ہو گا۔

اسرائیلی ریڈیو کے مطابق وزیر اعظم نینتن یاھو نے اپنی پارٹی کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینیوں سے مُمکنہ امن معاہدے کی شرائط کی وضاحت کی۔ انھوں نے کہا کہ ہماری شرائط پوری نہ ہوئیں تو ہم فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدے کے لیے آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ وہ حق واپسی سے دستبرداری قبول نہیں کریں گے اور اسرائیل کو یہودی ریاست کا تشخص دینے کو بھی تیار نہیں ہیں۔ میں بھی ان پر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ جب تک فلسطینیوں کا "حق واپسی" کا مطالبہ منسوخ اور اسرائیل کو یہودی ریاست قرار دینے کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا جاتا کوئی امن معاہدہ ممکن نہیں ہو گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ حق واپسی کی تنسیخ اور یہودی ریاست کا مطالبہ قبول کرنا اسرائیل کی بقاء کے لیے ضروری ہیں، لیکن میرا خیال ہے کہ فلسطینی کسی 'منصفانہ' امن سمجھوتے کے قریب جانے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے یہ بیان فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کے اس بیان کے بعد جاری ہوا ہے۔ صدر عباس نے اپنے لچک دار موقف کے باوجود واضح کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو یہودی ریاست کا درجہ دینے کو کسی قیمت پر تیار نہیں ہوں گے۔

"فتح" کی انقلابی کونسل کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر عباس نے واضح کیا کہ اسرائیل سے مذاکرات میں جن بنیادی نکات پر بات چیت ہوئی ہے ان میں ہم نے اپنے اصولی موقف سے اسرائیل کو آگاہ کر دیا ہے۔ ہم آزاد فلسطینی ریاست کے دارالحکومت کے لیے مشرقی بیت المقدس کے سوا کوئی دوسری تجویز قبول نہیں کریں گے۔ نیز اسرائیل کو سنہ 1967ء کی جنگ سے پہلی پوزیشن پر واپس جانا ہو گا۔

ذرائع کے مطابق صدر عباس نے اپنے مقربین سے کہا کہ اسرائیل کو یہودی ریاست تسلیم کرنا مُمکن ہی نہیں۔ چاہے مطالبے کے لیے ان پر پوری دنیا کی طرف سے بھی دباؤ ڈالا جائے وہ قبول نہیں کریں گے۔

صدر ابو مازن کہہ رہے تھے کہ میری عمر 79 سال ہو چکی ہے۔ میں نے ماضی میں قومی حقوق کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا اور نہ آئندہ فلسطینی قوم سے خیانت کروں گا۔

واضح رہے کہ امریکا کی نگرانی میں جاری امن مساعی اپنی مقررہ ڈیڈ لائن کے آخری مہینے میں داخل ہو رہی ہیں لیکن ابھی تک فریقین کسی متفقہ لائحہ عمل تک نہیں پہنچ پائے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو اسرائیل کو"یہودی ریاست" کا تشخص دلوانے کے لیے مُصِر ہیں جبکہ فلسطینی اسے کسی قیمت پر قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔