.

غزہ سے جنوبی اسرائیل کی جانب راکٹوں کی بارش

فلسطینی تنظیم جہاد اسلامی کا اسرائیلی فوج کی غزہ پر بمباری کے ردعمل میں حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی پٹی سے اسرائیل کے جنوبی علاقے کی جانب بدھ کو بیس راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔العربیہ نے غزہ سے اسرائیل کی جانب اس راکٹ حملے کی اطلاع دی ہے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں اس حملے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ''اس کے جدید فضائی دفاعی نظام ''آئرن ڈوم''نے ان میں سے تین راکٹوں کو ناکارہ بنا دیا ہے جبکہ دوسرے کھلے علاقوں میں گرے ہیں اور ان سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا''۔غزہ کی جانب سے راکٹ فائر کیے جانے کے بعد جنوبی اسرائیل کے سرحدی علاقے میں الارم بج اٹھے تھے۔

فلسطینی مزاحمتی تنظیم جہاد اسلامی نے اس راکٹ حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے اور کہا ہے کہ اس نے غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے میں اپنے تین کارکنوں کی شہادت کے جواب میں راکٹ فائر کیے ہیں۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے ایک رپورٹر کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ شہر کے نواحی جنوبی علاقوں سے ایک درجن سے زیادہ راکٹ فائر ہوتے ہوئے دیکھے ہیں۔وہ اس حملے کے وقت غزہ شہر میں ایک بالکونی میں کھڑا تھا۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور غزہ کی حکمراں حماس کے درمیان نومبر 2012ء کے بعد سے جنگ بندی جاری ہے لیکن اس دوران بھی غزہ سے صہیونی ریاست کے جنوبی علاقے کی جانب راکٹ فائرکیے جاتے رہے ہیں اور صہیونی فوج حماس اور دوسری تنظیموں سے تعلق رکھنے والے مجاہدین کو فضائی حملوں میں نشانہ بنا رہی ہے۔

انتہاپسند اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے جنوری میں صہیونی ریاست کی جانب راکٹ حملوں میں اضافے پر غزہ کی حکمراں فلسطینی تنظیم حماس کو ''بہت جلد'' سبق سکھانے کی دھمکی دی تھی اور کہا تھا کہ''ہم دہشت گردی کے حملوں کو ان کا پتا چلتے ہی روکیں گے اور جو کوئی بھی ہمیں نقصان پہنچائے گا،ہم اس کو طاقت سے جواب دیں گے''۔