.

مصر میں تمام مساجد سرکاری تحویل میں لینے کا فیصلہ

آئمہ کے لیے نیا ضابطہ اخلاق، مسجدوں میں چندہ جمع کرنے پر پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں مساجد پر مذہبی جماعتوں کی اجارہ داری ختم کرنے کے لیے ملک بھر کی مساجد کو محکمہ اوقاف نے اپنی تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

مصری وزیر اوقاف ڈاکٹر محمد مختار جمعہ نے سرکاری خبر رساں ادارے مڈل ایسٹ نیوز ایجنسی 'مینا' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ملک کی تمام جامع اور غیر جامع مساجد کو محکمہ اوقاف کی تحویل میں دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں وزارت اوقاف کے محکمہ مساجد و مدارس امور کو فیصلے پر عمل درآمد کے لیے قواعد وضوابط وضع کرنے اور وقت مقررہ کے اندر اُسے مکمل کرنے کے لیے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

ڈاکٹر مختار نے کہا کہ وزارت اوقاف کی جانب سے جنرل ہیڈ کواٹرز اور ضلعی دفاتر کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں آنے والی تمام مساجد کو محکمہ اوقاف کے زیر انتظام لانے کے لیے تیاریاں شروع کریں۔ پہلے مرحلے میں اُن مساجد وزارت اوقاف میں ضم کیا جائے گا جن میں امام اور خطیب یا قائم مقام خطیب موجود ہیں۔

حکومت کی جانب سے صوبائی اور ضلعی سیکرٹریز اوقاف کو اپنے اپنے علاقوں میں مساجد کے آئمہ، موذنین اور دیگر ملازمین کی تقرری کو یقینی بنائیں جس کے بعد تمام مساجد کو محکمہ اوقاف کی نگرانی میں لایا جائے گا۔ کسی ضلع میں کوئی چھوٹی مسجد بھی محکمہ اوقاف سے باہر نہیں رہنی چاہیے۔

ڈاکٹر مختار الجمعہ نے بتایا کہ مساجد کی انتظامیہ کو سختی سے ہدایت کر دی گئی ہے کہ کوئی تنظیم چاہے وہ آئینی ہو یا غیر آئینی حتیٰ کہ وہ قابل اعتماد ہی کیوں نہ ہو مساجد میں چندہ جمع نہیں کر سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وزارت اوقاف نے شہریوں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ مساجد کی آڑ میں چوری چھپے چندہ جمع کرنے والے افراد سے تعاون سے گریز کریں۔ اگر چندہ دینا ضروری بھی ہو تو صرف ایسے شخص کو دیا جائے جسے حکومت کی طرف سے باقاعدہ منظوری کے بعد بھیجا گیا ہو۔

اُنہوں نے کہا کہ تمام مساجد کی دیکھ بحال اور دیگر امور کی اولین ذمہ داری مسجد کے امام اور خطیب کے پاس ہو گی۔ امام ہی مسجد کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اس کا سب سے اہم نگران ہو گا۔ امام یا مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بغیر کوئی شخص مسجد کے منبر پر خطبہ دے سکے گا اور نہ درس وتدریس یا تبلیغ کرے گا۔ مسجد میں تقریر اور خطبہ حکومت کے وضع کردہ ضابطہ اخلاق کے مطابق ہو گا۔ ہر مسجد میں ایک تحریری خطبہ فراہم کیا جائے گا اور امام اسی خطبے کو پڑھنے کے پابند ہوں گے۔

مساجد ملازمین حکومت پر مالی بوجھ؟

مصر میں حکومت کی جانب سے ملک کی تمام مساجد کو سرکاری تحویل میں لینے کے فیصلے کی تحسین کی جا رہی ہے۔ اسلامک ریسرچ آڈیٹوریم کے سابق سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد نجیب عوضین نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزارت اوقاف کے اس فیصلے سے مذہبی جماعتوں کی مساجد پر اجارہ داری کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ نیز مساجد کو تخریب کار عناصر اپنے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرسکیں گے۔

ڈاکٹر نجیب نے بتایا کہ ملک بھر میں مساجد کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے جبکہ حکومت کے پاس دسیتاب آئمہ اور خطباء کی تعداد کم ہے۔ حکومت یہ تعداد پوری بھی کرلے تب بھی اس کا مالیاتی پہلو ایک اہم سوالیہ نشان رہے گا کیونکہ ملک کی تمام جامع اور غیر جامع مساجد کو سرکاری کھاتے سے تنخواہیں فراہم کرنا بہرحال ایک مشکل مرحلہ ہو گا۔ اگر وزارت اوقاف کے پاس اتنے زیادہ فنڈز موجود ہیں تو مساجد کے موجودہ تیس ہزار علماء، خطبا اور موذنین کو حکومت کی طرف سے تنخواہیں دی جا سکتی ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل مصری وزارت اوقاف نے بعض مساجد میں جمعہ کے خطبے پر پابندی عائد کی تھی۔ ان میں اخوان المسلمون کے حامی سمجھی جانے والی مساجد خاص طور پر شامل ہیں۔ وزارت اوقاف نے ایسی تمام مساجد کو فی الفور سرکاری تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ حکومت کی جانب سے تمام مساجد کے لیے نئے آئمہ اور خطیب حضرات کی تقرری کے بھی نوٹیفکیشن جاری کیے گئے ہیں اور مساجد کے لیے نیا خطبہ بھی تیار کیا گیا ہے۔ نیز مساجد کی انتظامیہ کو کالعدم قرار دی گئی تنظیموں کی فہرست بھی فراہم کی گئی ہے تاکہ کوئی تنظیم ان مساجد کو اپنے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال نہ کر سکے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق قاہرہ وزارت اوقاف و مذہبی امور کی جانب سے پچھلے کئی ماہ سے مساجد کو سرکاری تحویل میں لانے کی کوششیں جاری ہیں ابھی تک حکومت کو اس میں مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں ایک لاکھ آٹھ ہزار مساجد موجود ہیں جنہیں سرکاری تحویل میں لانے کے لیے بھاری رقوم بھی درکار ہیں۔ فی الحال حکومت کی کوشش دارالحکومت قاہرہ کی 4000 مساجد پر مرکوز ہے۔ ان میں جامع مسجد الازھر، مسجد الحسین، مسجد السیدہ زینب اور دیگر مساجد شامل ہیں۔