.

یورپی یونین کی شامی صدر کی ہمشیرہ پر پابندیاں برقرار

یورپی یونین کی عدالت انصاف نے سابق نائب وزیردفاع کی بیوہ کا مؤقف مسترد کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین کی عدالت انصاف نے شامی صدر بشارالاسد کی ہمشیرہ بشریٰ الاسد پر پابندیاں برقرار رکھی ہیں اور ان کے اپنے بھائی سے خاندانی تعلق کی بنا پر ان پابندیوں کو جائز قراردیا ہے۔

بشریٰ الاسد نے یورپی یونین کی پابندیوں کی فہرست میں اپنے نام کی شمولیت کو چیلنج کیا تھا اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ وہ ایک خاتون خانہ ہیں اور ان کا شامی رجیم میں کوئی کردار نہیں ہے۔

لکسمبرگ میں قائم یورپی یونین کی عدالت انصاف نے ان کے اس موقف کو تسلیم نہیں کیا اور قراردیا ہے کہ بشارالاسد کی بہن ہونے کے ناتے ان کا رجیم سے بھی تعلق ہے اور روایتی طور پر ان کا خاندان ہی برسر اقتدار ہے۔

یورپی یونین نے بشریٰ الاسد کا نام شام کی ان شخصیات میں شامل کررکھا ہے جن پر اس نے مختلف پابندیاں عاید کررکھی ہیں۔ان پابندیوں کے تحت ان شامی شخصیات اور عہدے داروں کے یورپی ممالک میں اثاثے منجمد کرلیے گئے تھے اور وہ تنظیم کے رکن ممالک میں سفر بھی نہیں کرسکتے۔

یورپی عدالت نے قراردیا ہے کہ ''اگر پابندیوں کا صرف شامی رجیم کے لیڈروں پر ہی اطلاق کیا جاتا تو پھر یورپی کونسل کے پابندیوں کے مقاصد حاصل نہیں کیے جاسکتے تھے کیونکہ متعلقہ افسر بآسانی اپنے رشتہ داروں کو استعمال کرتے ہوئے ان پابندیوں کو بائی پاس کرسکتے تھے''۔

واضح رہے کہ یورپی یونین نے بشارالاسد کی متعدد قریبی رشتہ دار خواتین پر پابندیاں عاید کررکھی ہیں۔ان میں ان کی اہلیہ ،والدہ ،بہن اور خواہرنسبتی بھی شامل ہیں۔تاہم شامی صدر کی اہلیہ اسماء الاسد برطانوی شہری ہیں اور اس وجہ سے ان پر تمام پابندیوں کا اطلاق نہیں ہوتا۔

تریپن سالہ بشریٰ شام کے مرحوم صدر حافظ الاسد کی اولاد میں سب سے بڑی ہیں اور وہ شام کے سابق نائب وزیردفاع آصف شوکت کی بیوہ ہیں۔ان کے شوہر دمشق میں 2012ء میں تباہ کن بم دھماکے میں مارے گئے تھے۔