.

اخوان المسلمون کے سینئیر ارکان سعودی عرب اور کویت میں گرفتار

گرفتار ہونے والوں میں ایک سابق رکن پارلیمنٹ بھی شامل ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے ذمہ دار پراسیکیوٹر نے بتایا ہے کہ اخوان المسلمون کے اہم رہنما سمیت دو ممبران کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک کو سعودی عرب سے اور دوسرے ممبر کو کویت سے حراست میں لیا گیا ہے۔ واضح رہے مصر نے اخوان المسلمون کو پچھلے سال دسمبر میں دہشت گرد قرار دیا تھا جبکہ سعودی عرب نے پچھلے ہفتے یہ فیصلہ کیا ہے، تاہم کویت میں اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار نہیں دیا گیا ہے۔

مصر کی عبوری حکومت کا الزام ہے کہ اخوان المسلمون نے محمد مرسی کی برطرفی کے بعد تشدد کو فروغ دیا ہے۔ اخوان اس الزام کی تردید کرتی ہے، اس کا موقف ہے کہ وہ پہلے منتخب صدر کی غیر قانونی برطرفی کے خلاف پر امن احتجاج کررہی ہے۔ مرسی کی برطرفی کے بعد ہونے والے اکثر دھماکوں کی ذمہ داری عسکری گروپوں نے قبول کی ہے۔

مصری حکومت کا کہنا ہے اخوان ممبران کو گرفتار کرنے کیلیے انٹر پول سے کہہ دیا گیا ہے۔ لیکن انیٹرنیشنل پولیس نے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی ہے اس نے مصری حکومت کے ساتھ اس سلسلے میں تعاون کیا ہے۔ انٹر پول کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے ادارے کو مذکورہ افراد کیلیے کوئی نوٹس نہیں ملا ہے۔ دوسری جانب سعودی اور کویتی حکام سے اس سلسلے میں رابطہ ممکن نہیں ہوا ہے۔

اس سے پہلے اتوار کے روز مصری وزیر خارجہ نبیل فہمی نے عرب لیگ کے اجلاس میں عرب ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف مل کر جدو جہد کریں ، نیز اخوان المسلمون کے لوگوں کو اپنے ہاں آنے سے روکیں اور انہیں مصری حکومت کے حوالے کریں۔

خیال رہے کہ اخوان المسلمون نے مطلق العنان حکمران حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کے بعد عوام میں مقبولیت حاصل کی اور پہلا صدارتی انتخاب اسی کے حمایت یافتہ امیدوار نے جیتا تھا۔ تاہم فوج نے جولائی 2013 میں اخوان کے اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔

پراسکیوٹرنے بتایا کہ انٹر پول نے انہیں مطلع کیا ہے کہ سابق رکن پارلیمنٹ اکرم الشاعر کو سعودی عرب میں گرفتار کیا گیا جبکہ محمد القطبی کو کویت سے حراست میں لیا گیا ہے۔ دونوں پر الزام ہے کہ انہوں نے پچھلے اگست میں اپنے آبائی شہر پورٹ سعید میں لوگوں کو تشدد پر ابھارا تھا۔ جس کی وجہ سے رابعہ العدوایہ مسجد کے اندر اور باہر کریک ڈاون میں ہونے والی سینکڑوں ہلاکتوں کے بعد لوگوں نے پورٹ سعید میں تھانوں کو آگ لگا دی تھی۔

سعودی عرب اور امارات میں بھی اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دیے جانے کے بعد اس امر کا امکان ہے کہ ان ملکوں میں اخوان کے ممبران اور حامیوں کی گرفتاریاں بڑھ جائیں گی۔