.

غزہ میں جنگ بندی موثرالعمل ہوگئی:جہاد اسلامی

مصر کی ثالثی میں فلسطینی تنظیموں اور اسرائیل کے درمیان ایک اور جنگ بندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی مزاحمتی تنظیم جہاد اسلامی نے اسرائیل کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد کہا ہے کہ مصر کی ثالثی میں اب جنگ بندی مؤثرالعمل ہوگئی ہے۔

جہاداسلامی کے ترجمان داؤد شہاب نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''مصر کی ثالثی میں دو بجے دوپہر سے جنگ بندی نافذالعمل ہوگئی ہے''۔فوری طور پر اسرائیل کی جانب سے اس جنگ بندی کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

قبل ازیں فلسطینی صدر محمود عباس نے مغربی کنارے کے شہر بیت لحم میں برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس کے دوران غزہ کی پٹی میں فوجی محاذآرائی اور اسرائیل کی جانب راکٹ فائر کیے جانے کی مذمت کی تھی۔

درایں اثناء اسرائیلی فوج کی خاتون ترجمان نے کہا ہے کہ فلسطینی مزاحمت کاروں نے آج پانچ راکٹ فائر کیے ہیں۔ان میں صرف ایک اسرائیلی علاقے میں گرا ہے لیکن اس سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

اس خاتون ترجمان کے بہ قول بدھ کو فوجی کشیدگی میں اضافے کے بعد غزہ کی پٹی سے جنوبی اسرائیل کی جانب ساٹھ سے زیادہ راکٹ فائر کیے گئے ہیں اور ان میں سے پانچ راکٹ آبادی والے علاقوں میں گرے ہیں۔

اسرائیلی جنگی طیاروں نے رات سے جمعرات کی صبح تک غزہ کی پٹی میں انتیس اہداف پر فضائی حملے کیے تھے اور غزہ کی حکمران فلسطینی تنظیم حماس ،جہاد اسلامی اوراس کے عسکری ونگ القدس بریگیڈز کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔

منگل کو غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی جارحیت کے جواب میں جہاد اسلامی نے بدھ کی شام تک جنوبی اسرائیل کی جانب کم سے کم نوے راکٹ فائر کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔اسرائیلی فوج کے حملے میں جہاد اسلامی کے تین کارکن شہید ہوگئے تھے۔

نومبر 2012ء میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم نے اتنی زیادہ تعداد میں جنوبی اسرائیل کی جانب راکٹ فائر کیے ہیں اور راکٹوں کی اس بارش کے بعد ہزاروں یہودی محفوظ پناہ گاہوں میں چھپنے پر مجبور ہوگئے تھے۔تاہم ان راکٹ حملوں میں اسرائیل میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور غزہ کی حکمراں حماس کے درمیان نومبر 2012ء میں مصر کی ثالثی میں جنگ بندی ہوئی تھی لیکن اس دوران بھی غزہ سے صہیونی ریاست کے جنوبی علاقے کی جانب راکٹ فائرکیے جاتے رہے ہیں اور صہیونی فوج حماس اور دوسری تنظیموں سے تعلق رکھنے والے مجاہدین کو فضائی حملوں میں نشانہ بناتی رہی ہے۔