شام میں انتخابات سے امن عمل خطرے میں پڑ جائے گا:ابراہیمی

بشارالاسد دوبارہ منتخب ہو جاتے ہیں تو حزب اختلاف مذاکرات نہیں کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی الاخضر الابراہیمی نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ شام میں صدارتی انتخابات کے انعقاد سے امن کوششیں خطرات سے دوچار ہوجائیں گے اور اگر بشارالاسد دوبارہ صدر منتخب ہوجاتے ہیں تو اس سے بحران کے حل کے لیے ثالثی کی کوششیں پیچیدگی کا شکار ہوجائیں گے۔

انھوں نے یہ بات جمعرات کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو شام کے بارے میں بریفنگ دینے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ''اگر شام میں انتخابات ہوتے ہیں تو میرا شبہ یہ ہے کہ اس کے بعد تمام حزب اختلاف کو حکومت کے ساتھ مذاکرات میں کوئی دلچسپی نہیں رہے گی''۔

انھوں نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ ''اگر بشارالاسد مزید سات سال کے لیے صدر منتخب ہوجاتے ہیں تو انھیں شک ہے کہ اس سے شامی عوام کے مصائب کم نہیں ہوں گے''۔

ان کے اس بیان سے چندے قبل شامی پارلیمان نے اتفاق رائے سے نئے انتخابی قانون کی منظوری دی ہے۔اس قانون کے تحت شام میں پہلی مرتبہ ایک سے زیادہ صدارتی امیدوار انتخابات میں حصہ لے سکیں گے۔

شامی حکام کا کہنا ہے کہ صدارتی انتخابات بروقت ہوں گے۔بشارالاسد یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ دوبارہ صدارتی انتخابات میں حصہ لیں گے۔البتہ انھوں نے ابھی تک اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔انتخابی قانون کے تحت بشارالاسد کی موجودہ صدارتی مدت 17 جولائی کو ختم ہوگی اور اس سے قبل ساٹھ سے نوے روز کے درمیان صدارتی انتخابات کرائے جانے چاہئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں