.

70مصری شہری اغوا نہیں،گرفتار ہوئے ہیں:لیبی سفیر

لیبیا میں غیر قانونی داخلے کے الزام میں مصریوں کی طرابلس میں گرفتاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قاہرہ میں متعین لیبی سفیر محمد فائز جبریل نے کہا ہے کہ لیبیا میں مبینہ طورپر اغوا کیے گئے ستر مصریوں کو دراصل غیر قانونی داخلے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے لیکن انھیں کسی سرحدی علاقے سے نہیں بلکہ دارالحکومت طرابلس سے پکڑا گیا ہے۔

لیبی سفیرنے ایک غیر ملکی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گرفتار کیے گئے مصری بہتر ہیں۔قبل ازیں مصر کی وزارت خارجہ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ فوجی وردیوں میں ملبوس مسلح افراد نےطرابلس کے مختلف علاقوں سے ستر مصریوں کو اغوا کر لیا ہے۔

لیکن مصری وزارت خارجہ نے یہ وضاحت نہیں کی تھی کہ ان مصریوں کو کب اور کیوں پکڑا گیا ہے۔البتہ اس نے یہ کہا تھا کہ یرغمالیوں کی رہائی اور ان کے تحفظ کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

لیبیا میں یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ وہاں مصریوں کو اس طرح اغوا کی واردات کے انداز میں گرفتار کیا گیا ہے یا ان پرحملہ کیا گیا ہے۔فروری میں لیبیا کے مشرقی شہر بن غازی میں ساحل سمندر پر سات مصری عیسائیوں کی لاشیں ملی تھیں۔انھیں گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا۔

جنوری میں طرابلس میں مصری سفارت خانے میں متعین عملے کے پانچ ارکان کو اغوا کر لیا گیا تھا۔تاہم انھیں بعد میں رہا کردیا گیا تھا۔مصری سفارتی عملے کو مصر میں لیبیا کی ملیشیا کے سربراہ کی گرفتاری کے ردعمل میں اغوا کیا گیا تھا۔تاہم انھیں بعد میں ایک دوسرے کے بدلے میں رہا کردیا گیا تھا۔