.

خانہ جنگی کے 3 سال، شامی عوام کیلیے شمعیں روشن

لندن، واشنگٹن اور میلبورن میں اہل شام کے ساتھ اظہار یکجہتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھر میں انسانی حقوق سے متعلق اداروں اور خیراتی اداروں نے شام میں خانہ جنگی کے تین سال مکمل ہونے پر لاکھوں متاثرہ افراد کے مسائل اجاگر کرنے کا دن منایا ہے۔ اس سلسلے میں میلبورن، لندن اورواشنگٹن سمیت دنیا کے دوسرے اہم شہروں میں شمعیں روشن کر کے جنگ زدہ شامیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا۔

واضح رہے اس تین سال خانہ جنگی کے دوران ایک لاکھ چالیس ہزار شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں شامی شہری دوسرے ملکوں میں پناہ گزیں ہونے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ تین سال قبل شام میں پرامن احتجاج شروع ہوا تھا تاکہ ملک میں جمہوری تبدیلی ممکن ہو سکے لیکن بشارالاسد رجیم نے ان مظاہروں کو بے رحمانہ طریقوں سے دبانے کی کوشش کی اور مخالفین کو ہلاک کرنا شروع کر دیا۔

اس دوران بشار رجیم نے مخالفین پر بمباری کیلیے جنگی طیاروں اور توپخانے کا بے دریغ استعمال کیا، حتی کہ کیمیائی ہتھیاروں اور زہریلی گیسوں کے استعمال سے بھی گریز نہ کیا۔ بشار رجیم نے ان تین برسوں میں اختلاف کرنے کے جرم میں بستیوں اور قصبوں کی ناکہ بندی کر کے عوام کو بنیادی ضروریات تک سے محروم رکھا ہوا ہے۔ جبکہ امن کیلیے ہونے والی کوششوں کو ناکام بنانے کی بھی سازشیں جاری ہیں۔

بشار رجیم ان دنوں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کی تیاری کر رہی ہے۔ بدھ کے روز شامی پارلیمنٹ نے نئے انتخابی قوانین پر بھی غور کیا ہے۔ شامی اپوزیشن کا موقف ہے کہ بشارالاسد کو اقتدار سے الگ ہو جانا چاہیے۔ بشار رجیم اور متحدہ اپوزیشن کے درمیان جنیوا ٹو کے تحت ہونے والی مذاکراتی کوششیں بھی ناکام ہو چکی ہیں۔

اسی اثناء میں امریکا نے بشارالاسد کو آئندہ صدارتی انتخاب سے دور رہنے کییے کہا ہے۔ امریکی نائب ترجمان نے کہا '' ہم یقین رکھتے ہیں کہ بشارالاسد شامی عوام کی قیادت کا حق کھو چکے ہیں۔ '' شامی متحدہ اپوزیشن کے سربراہ احمد الجربا کا خانہ جنگی کے تین سال مکمل ہونے پر آج کسی وقت بیان بھی متوقع ہے۔