.

چیک پوسٹ پر حملہ، چھ مصری فوجی ہلاک

واقعہ قاہرہ کے نواح میں پیش آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسلح افراد نے قاہرہ میں قائم ایک فوجی چیک پوسٹ پر حملہ کر کے چھ فوجیوں کو ہلاک کر دیا ہے ۔ محض دو دن قبل ایک فوجی بس پر اسی نوعیت کے ایک حملے میں فوج کا ایک وارنٹ آفیسر مارا گیا تھا۔

عسکریت پسندوں کی طرف سے بڑھے ہوئے حملوں کا سکیورٹی فورسز بطور خاص ہدف ہیں۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ مصری تاریخ کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی جولائی 2013 میں برطرفی کے بعد سکیورٹی فورسز کے خلاف عسکریت پسندوں کی کارروائیاں بڑھ گئی ہیں۔

ان حملوں کا بالعموم مرکز صحرائے سیناء رہا ہے۔ البتہ حالیہ دنوں میں عسکریت پسندوں نے اپنی کارروائیوں کا دائرہ پھیلا دیا ہے۔ ہفتے کے روز سکیورٹی فورسز کے خلاف واقعہ قاہرہ کے شمالی نواحی علاقے شبرا الخیمہ میں پیش آیا ،جہاں ایک فوجی چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا ۔

اس واقعے کے بعد موقع سے دو بم برآمد قبضے میں لیے گئے ہیں ۔ حکومت کی طرف سے اس طرح کے زیادہ تر واقعات کی ذمہ داری عبوری حکومت کی سب سے بڑی مخالف اخوان المسمون پر عاید کی جاتی ہے، تاہم اخوان المسلمون ایسے واقعات میں ملوث ہونے سے انکار کرتی ہے۔ واضح رہے اخوان سے اقتدار چھینے جانے کے بعد پچھلے سال دسمبر میں اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اب تک قاہرہ شہر اور اسکے نواح میں دہشت گردی کی بڑی کارروائیوں کی ذمہ داری انصار بیت المقدس قبول کرتی رہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود عبوری حکومت ان واقعات کا ذمہ دار اخوان المسلمون کو ہی سمجھتی ہے۔

انصار بیت المقدس کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیاں مرسی کے حامیوں کے خلاف ظالمانہ کارروائیوں کا رد عمل ہیں۔ اسلام پسند اخوان کے ایک ہی دن کے دوران پچھلے سال ماہ اگست میں ایک ہزار سے زائد کارکن ہلاک کر دیے گئے تھے۔ یہ کارکن قاہرہ کی رابعہ العدوایہ مسجد کے باہر مرسی کی بحالی کیلیے دھرنا دے رہے تھے۔