.

شامی فوج کا باغیوں کے زیر قبضہ یبرود پر کنٹرول کا دعویٰ

شہریوں اور حزب اختلاف کے کارکنان کی اکثریت کی لبنان کی جانب نقل مکانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج نے لبنان کی سرحد کے نزدیک قلمون کے علاقے میں واقع قصبے یبرود میں باغیوں کے ساتھ لڑائی کے بعد مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل نے فوجی ذرائع کے حوالے سے اتوار کو ایک نشریے میں یبرود پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔اس فوجی ذریعے نے کہا کہ ''ہماری بہادر مسلح افواج نے صوبہ دمشق میں واقع یبرود پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔وہ اس قصبے میں دہشت گردوں کی جانے سے نصب کی گئی دھماکا خیز ڈیوائسز کو ناکارہ بنا رہی ہیں''۔

دوسری جانب حزب اختلاف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ شہری اور حکومت مخالف کارکنان ہفتے کی رات ہی کو یبرود پر سرکاری فوج کے قبضے سے قبل نزدیک واقع لبنان کی سرحد کی جانب چلے گئے تھے۔

اس قصبے پر قبضے سے شامی فوج کا مورال بلند ہوگا اور یہ عملی طور پر شامی حزب اختلاف کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔یبرود مارچ 2011ء میں شامی صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے آغاز کے بعد سے باغیوں کا ایک مضبوط گڑھ رہا ہے اور لبنان کی سرحد کے نزدیک واقع ہونے کی وجہ سے یہ انھیں اسلحے اور دوسرے سامان رسد کی فراہمی کے لیے ایک اہم گذرگاہ کے طور پر استعمال ہورہا تھا۔یہ قصبہ دمشق کو تیسرے بڑے شہر حمص سے ملانے والی اہم شاہراہ پر واقع ہے۔

یبرود میں عیسائی اور مسلمان دونوں آباد ہیں اور اس قصبے کی لڑائی کے آغاز سے قبل آبادی قریباً پچاس ہزار نفوس پر مشتمل تھی لیکن جنوری اور فروری میں شامی فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان اس قصبے میں شدید لڑائی چھڑجانے کے بعد صرف بارہ روز میں بارہ ہزار آٹھ سو افراد گھربار چھوڑ کر سرحدپار چلے گئے تھے۔

شامی فوج گذشتہ کئی ہفتوں سے یبرود کا کنٹرول واپس لینے کے لیے باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہی تھی اور اس نے اس قصبے میں بیرل بم بھی برسائے تھے۔اس قصبے پر قبضے کے بعد لبنان کی وادی بقاع میں واقع قصبے عرسال تک باغیوں کی سپلائی لائن بھی کٹ گئی ہے۔

شامی فوج کے شانہ بشانہ لڑنے والی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا دعویٰ رہا ہے کہ اس کے خلاف لبنان میں کاربم حملے یبرود سے ہی کیے جارہے تھے اور وہاں سے حملہ آور بارود سے بھری کاروں کے ساتھ بھیجے جارہے تھے۔