.

عراق:القاعدہ مخالف لیڈر کے خاندان کا بہیمانہ قتل

مسلح جنگجوؤں نے سامراء میں صحوہ کےلیڈر کی بیوی،دو بیٹوں کے سرقلم کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں بھاری اور خطرناک ہتھیاروں سے مسلح جنگجوؤں نے القاعدہ مخالف لیڈر کے گھر پر حملہ کر کے اس کی بیوی ،دوبیٹوں اور ایک خاتون کو بہیمانہ انداز میں قتل کردیا ہے۔

عراقی پولیس کے ایک کرنل کی اطلاع کے مطابق مسلح حملہ آور دس سے زیادہ گاڑیوں پر سوار تھے اور انھوں شمالی شہر سامراء کے نزدیک واقع علاقے جیلم میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب القاعدہ مخالف ملیشیا کے رہ نما ابو سلیم کے گھر پر حملہ کردیا لیکن وہ اس وقت گھر میں موجود نہیں تھے۔

حملہ آور بھاری مشین گنوں اور دوسرے ہتھیاروں سے مسلح تھے۔انھوں نے ابو سلیم کی بیوی اور دونوں بیٹوں کو پہلے فائرنگ سے ہلاک کرنے کے بعد ان کے سرتن سے جدا کردیے اور پھر گھر کے آس پاس دھماکے کیے جس کے نتیجے میں ابوسلیم کے چار اور پانچ سال کی عمر کے دو اور کم سن بیٹے زخمی ہوگئے۔

پولیس کرنل کے بہ قول نزدیک واقع چیک پوائنٹ پر موجود پولیس اہلکاروں نے حملہ آوروں کو پسپا کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ اس میں ناکام رہے اور اپنا اسلحہ ختم ہوجانے کے بعد وہاں سے بھاگ گئے تھے جبکہ انھوں نے پولیس کی کمک کو بھی وائرلیس کے ذریعے طلب کیا تھا لیکن وہ بروقت نہیں پہنچی تھی۔

ابوسلیم جیلم میں القاعدہ مخالف سنی جنگجوؤں پر مشتمل صحوہ ملیشیا کے لیڈر ہیں۔صحوہ ملیشیا نے 2006ء اور اس کے بعد مغربی صوبے الانبار میں امریکی فوج کی حمایت میں القاعدہ کے خلاف جنگ لڑی تھی اور اسی ملیشیا کی حمایت کی بدولت امریکی فوج الانبار میں القاعدہ کے جنگجوؤں پر قابو پانے میں کامیاب ہوسکی تھی۔

مگر امریکی فوج اور عراقی حکومت کا ساتھ دینے کی پاداش میں صحوہ ملیشیا کے ارکان کو القاعدہ اور اس سےوابستہ تنظیموں کے جنگجوؤں کے مسلسل حملوں کا سامنا ہے۔سنی جنگجو انھیں غدار سمجھتے ہیں اور انھیں چُن چُن کر قتل کررہے ہیں۔

القاعدہ سے وابستہ دولت اسلامی عراق وشام(داعش) کے جنگجوؤں اور مقامی سنی جنگجوؤں نے دسمبر کے آخر سے الانبار کے صوبائی دارالحکومت رمادی ،فلوجہ دوسرے قصبوں وشہروں میں اپنا مکمل کنٹرول قائم کر رکھا ہے۔عراقی فوج مقامی قبائل کی مدد سے ان شہروں کا کنٹرول واپس لینے کی کوشش کررہی ہے لیکن تین ماہ ہونے کو آئے ہیں،عراقی حکومت داعش سے صوبے کا کنٹرول واپس نہیں لے سکی ہے۔

عراقی وزیراعظم نوری المالکی القاعدہ کے خلاف عالمی برادری کو مدد کے لیے پکار رہے ہیں اور اپنے پڑوسی عرب ممالک کے خلاف تندوتیز بیانات بھی جاری کرتے رہتے ہیں اور ان پر سنی جنگجوؤں کی حمایت وپشت پناہی کے الزامات عاید کرتے رہتے ہیں۔