طلاق کیسز، جعلی بیگمات کی سعودی عدالتوں میں جعلسازیاں

بھائیوں کی بیگمات کی جگہ بہنیں عدالتوں میں پیش ہوتی رہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کی وزارت انصاف نے ایسی خواتین سے متعلق دس کیسز کا انکشاف کیا ہے جس میں بعض خواتین کی جگہ جعلی طور پر دوسری خواتین عدالتوں میں پیش ہوتی رہی ہیں۔ وزارت انصاف کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق دوسری خواتین کی جگہ پیشی کے واقعات زیادہ تر فیملی کیسز میں سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ میں یہ چیز بھی سامنے آئی ہے کہ بعض مردوں نے اپنی بیگمات کی جگہ دوسری خواتین کو عدالتوں میں پیش ہونے کے لیے کہا تھا۔ تاکہ اپنی بیگمات کی طرف سے دائر کردہ مقدمات واپس لینے کے لیے عدالتوں سے استدعا کر سکیں۔ بعض مقدمات میں خاندان کی دوسری خواتین کی جانب سے دائر کردہ مقدمات میں بھی مردوں نے یہ حربہ استعمال کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق زیادہ واقعات جدہ ، ریاض اور مکہ میں سامنے آئے ہیں۔ یہ انکشافات خواتین کی طرف سے لائی گئی ان شکایات کی بنیاد پر ہوئے ہیں جن میں متاثرہ خواتین نے عدالتوں کے سامنے موقف پیش کیا کہ ان کے شوہروں کے خلاف دائر کردہ مقدمات بلا جواز طور پر واپس لے لیے گئے، حالانکہ وہ خواتین یہ مقدمات جاری رکھنا چاہتی تھیں۔

ان شکایات پر وزارت انصاف نے تحقیقات کرائیں تو اصل کہانی سامنے آگئی۔ مقدمات واپس لینے کے لیے عدالتوں میں پیش ہونے والی خواتین اصلی خواتین نہ تھیں بلکہ شوہروں کی طرف سے کیا گیا جعلی بندوبست تھا۔

ایک وکیل خالد سعید الشاہرانی نے اس بارے میں بتایا ''بعض مرد حضرات نے اپنی بیگات کی طرف سے طلاق کیلیے دائر مقدمات سے نجات کیلیے اپنی رشتہ دار خواتین سے درخواست کی کہ وہ عدالت میں ان کی بیگمات کے طور پر پیش ہوں اور طلاق کا دعوی واپس لینے کا کہہ دیں۔ خالد سعید نے کہا اگر اس جرم میں ملوث افراد پکڑے گئے تو جعلی اہلیہ کے طور پر پیش ہونے والی خواتین کے خلاف جعلسازی اور دھوکہ دہی کے مقدمات بن سکیں گے۔ انہوں اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عدالتوں سے مطالبہ کیا کہ'' عدالتوں میں خواتین کے انگوٹھوں اور انگلیوں کے نشانات لینے کا منصوبہ تیز کیا جائے۔ خالد سعید الشاہرانی کے بقول بعض مردوں نے اپنی بہنوں کو اپنی بیگمات کی جگہ عدالتوں میں پیش کر کے اپنے خلاف مقدمات ختم کرانے کی کوشش کی۔ تاہم بعض مقدمات میں یہ جعلسازی کا پتہ موقع پر ہی چل گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں