فلسطینی صدر امن کے لیے خطرات مول لیں: براک اوباما

محمود عباس اسرائیل کے ساتھ تنازعے کے حل کے لیے سخت فیصلے کریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی صدر براک اوباما نے فلسطینی صدر محمود عباس پر زوردیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ امن کے لیے سخت فیصلے کریں اور خطرات مول لیں۔

وہ وائٹ ہاؤس، واشنگٹن میں سوموار کو فلسطینی صدر سے گفتگو کررہے تھے۔ انھوں نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جاری مذاکرات میں آیندہ ہفتوں میں پیش رفت ہوگی۔

ملاقات میں محمود عباس نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا مزید فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے لیے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پر دباؤ ڈالے۔ بعد میں اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا:''ہم اس امر کے بدستور قائل ہیں کہ موقع موجود ہے''۔ ان کا اشارہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جاری مذاکرات میں ممکنہ پیش رفت کی جانب تھا۔

صہیونی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے دو ہفتے قبل واشنگٹن میں صدر اوباما سے ملاقات کی تھی۔ وہ دونوں فریقوں کے درمیان دیرینہ تنازعے کو طے کرنے کے لیے اختلافات کی خلیج کو پاٹنے اور انھیں ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے کوشاں ہیں۔

اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان جولائی 2013ء میں امریکا کی ثالثی میں امن مذاکرات بحال ہوئے تھے لیکن ان کے درمیان متنازعہ امور کو طے کرنے کے لیے کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔ اگر ان مذاکرات میں کوئی مثبت پیش رفت ہوتی ہے تو پھر امریکا کی جانب سے اس کی اپریل کی ڈیڈ لائن میں توسیع کی جا سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں