مصری فورسز، مسلح مظاہرین اگست میں تشدد کے ذمے دار

رابعہ چوک میں اخوان کا دھرنا ختم کرانے کے لیے طاقت کا بے مہابا استعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کے انسانی حقوق کے قومی ادارے نے سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کو گذشتہ سال اگست میں معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں کے دارالحکومت قاہرہ میں احتجاجی دھرنے کو ختم کرانے کے لیے کارروائی کے دوران سیکڑوں افراد کی ہلاکتوں کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔

قومی کونسل برائے انسانی حقوق نے 14 اگست 2013ء کو قاہرہ میں جامعہ رابعہ العدویہ چوک میں اخوان المسلمون کے حامیوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا ہے کہ احتجاجی دھرنا ختم کرانے کے لیے کارروائی کے دوران آٹھ پولیس اہلکاروں سمیت چھے سو بتیس افراد مارے گئے تھے۔

پولیس اور فوج نے برطرف صدر کے حامیوں اور اخوان المسلمون کے ہزاروں کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا بے مہابا استعمال کیا تھا جس کے نتیجے میں مصر کی جدید تاریخ میں مظاہرین کے قتل عام کا بدترین سانحہ رونما ہوا تھا۔

مصر کی عبوری حکومت نے رابعہ العدویہ چوک میں احتجاجی دھرنے کو ختم کرانے کے لیے کارروائی کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے کونسل کو مقرر کیا تھا۔اس نے آج سوموار کو قاہرہ میں ایک نیوزکانفرنس کے دوران تشدد آمیز واقعات سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپوں کے دوران عام شہری یعنی مظاہرین گولیوں کا نشانہ بن گئے تھے لیکن کونسل نے واضح طور پر یہ نہیں کہا کہ ان پرامن مظاہرین کو کس نے قتل کیا تھا۔البتہ اس نے پولیس پر طاقت کے غیر متناسب استعمال کا الزام عاید کیا ہے۔

کونسل کے ایک رکن نصر امین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم کسی کی مذمت نہیں کررہے ہیں بلکہ ہم عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کررہے ہیں تاکہ یہ پتا چل سکے کہ انھیں کس نے قتل کیا تھا۔

رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ دھرنے کے دوران مسلح جھڑپیں بعض مسلح عناصر کی جانب سے اچانک فائر کھولے جانے کے بعد شروع ہوئی تھیں۔اس فائرنگ سے مظاہرین کو منتشر ہونے کی ہدایت کرنے والا ایک افسر مارا گیا تھا۔

سکیورٹی فورسز نے اس کے بعد دھرنے میں شریک مظاہرین کو منتشر ہونے کے لیے صرف پچیس منٹ کا وقت دیا تھا جو کونسل کے مطابق ناکافی تھا اور سکیورٹی فورسز اس مختصر وقت میں ہزاروں مظاہرین کو محفوظ راستہ دینے میں ناکام رہی تھیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسلح افراد نے مظاہرین کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا تھا اور جھڑپوں کے دوران انھیں سکیورٹی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بننے کے لیے آگے کردیا تھا،کونسل نے نیوزکانفرنس کے دوران فوٹیج بھی نشر کی ہے جس میں ایک فوجی عمارت پر موجود بندوق بردار زمین پر مظاہرین کو اپنی گولیوں کا نشانہ بنا رہا تھا۔ویڈیو مِیں پولیس اہلکار مظاہرے میں شریک ایک شخص کو دوران حراست تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے۔نیوزکانفرنس میں بتایا گیا کہ اخوان المسلمون اور سکیورٹی فورسز دونوں نے کونسل کی تحقیقات کے دوران تعاون نہیں کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں