لبنان: وادی بقاع میں خود کش بم دھماکا، چار افراد ہلاک

بعلبک سے تعلق رکھنے والی سنی جنگجو تنظیم نے حملے کی ذمے داری قبول کرلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان کے شام کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے وادی بقاع میں ایک پیٹرول اسٹیشن پر خود کش کار بم حملے کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور گیارہ زخمی ہوگئے ہیں۔

لبنانی میڈیا ذرائع کے مطابق شام کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے النبی عثمان میں خودکش حملہ آور نے اتوار اور سوموار کی درمیانی شب اپنی بارود سے بھری کار کو دھماکے سے اڑایا ہے۔یہ قصبہ لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

اہل سنت جنگجوؤں کے ایک گروپ بعلبک میں لواء احرار السنہ نے اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔لبنانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بم دھماکے میں مرنے والوں میں حزب اللہ کا ایک مقامی عہدے دار بھی شامل ہے۔اس کا نام عبدالرحمان بتایا گیا ہے۔

حزب اللہ کے ملکیتی المنار ٹیلی ویژن پر نشر کی گئی ویڈیو میں پولیس نے دھماکے کی جگہ اور ایک تباہ شدہ کار کا محاصرہ کررکھا ہے۔واضح رہے کہ لبنان میں حالیہ مہینوں کے دوران حزب اللہ کے کنٹرول والے مشرقی علاقوں میں متعدد بم دھماکے ہوچکے ہیں۔

النبی عثمان میں اس بم دھماکے کی خبر منظرعام پر آنے کے فوری بعد لواء احرار السنہ نے ٹویٹر پر جاری کردہ ایک بیان میں اس کی ذمے داری قبول کی ہے اور اس کو شامی قصبے یبرود پر صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کے قبضے کا ردعمل قراردیا ہے۔اس نے حزب اللہ اور لبنانی فوج کو خبردار کیا ہے کہ ''وہ یبرود کی جنگ کی لبنانی علاقے میں منتقلی کے لیے اب تیار رہیں''۔

اس بم حملے سے چندے قبل ہی شامی فوج نے گذشتہ کئی ہفتوں کی لڑائی کے بعد باغیوں سے یبرود کا کنٹرول واپس لیا ہے۔اس محاذ پر شامی فوج کے شانہ بشانہ حزب اللہ کے جنگجو بھی باغیوں کے خلاف لڑرہے تھے۔یبرود پر قبضے کے بعد لبنان کی وادی بقاع میں واقع قصبے عرسال تک باغیوں کی سپلائی لائن بھی کٹ گئی ہے۔

شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا دعویٰ رہا ہے کہ اس کے خلاف لبنان میں کاربم حملے یبرود سے ہی کیے جارہے تھے اور وہاں سے حملہ آور بارود سے بھری کاروں کے ساتھ بھیجے جارہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں