"قطر سے تعلقات دوحہ کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی سے مشروط ہیں"

تنازعہ کے حل کے لیے سفارتی کوششیں نہیں کی جا رہی: سعود الفیصل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے کہا ہے کہ خلیجی ملک قطر کے ساتھ سفارتی تنازع کا حل صرف دوحہ کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی سے مشروط ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دوحہ اور ریاض کے درمیان حالیہ اختلافات دور کرنے کے لیے عالمی ذرائع ابلاغ نے خبر دی تھی کہ تیونسی وزیر اعظم سعودی عرب اور قطر کے درمیان تنازع کے حل کے لیے ثالثی کر رہے تھے.

شہزادہ سعود الفیصل کا کہنا تھا کہ قطر کی خارجہ پالیسی خلیجی ممالک کے حوالے سے نہایت تشویشناک ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ متحدہ عرب امارات، بحرین اور سعودی عرب کے سفارتی تعلقات ختم کرنے کی بنیادی وجہ قطر کے تعلقات ہیں۔

خیال رہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے پانچ مارچ کو قطر سے تعلقات ختم کر لیے تھے۔ تینوں ملکوں نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ قطر سے سفیروں کی واپسی ان کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے ناگزیر ہو گئی تھی کیونکہ قطر نے دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے خلیج تعاون کونسل کے اصولوں کی خلاف ورزی کے ساتھ بھائی چارے کے اسلامی اصولوں کی بھی پاسداری نہیں کی ہے۔

اخبار "الحیات" کے نامہ نگار نے شہزادہ سعود الفیصل سے پوچھا کہ کیا دوحہ اور دوسرے خلیجی ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کا کوئی امکان ہے اور کیا اس ضمن میں کوئی ثالثی کی کوشش ہو رہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر قطر اپنی خارجہ پالیسی تبدیل کر لیتا ہے تو سفارتی تعلقات بھی بحال ہو جائیں گے۔ جب تک سفارتی تعطل کی وجہ دور نہیں ہوتی تعلقات کی بحالی ممکن نہیں ہے۔ اس ضمن میں سعودی عرب کی جانب سے کسی کھلے پن کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے اور نہ ہی کوئی تیسری قوت مصالحتی کوششیں کر رہی ہے"۔سعودی وزیر خارجہ نے امریکا کی جانب سے خلیجی سفارتی بحران حل کرنے کی مساعی کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر براک اوباما مارچ کے آخر تک خلیجی ممالک کا دورہ کرنے والے ہیں لیکن ان کا سفارتی تعطل کے خاتمے کی مساعی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سعودی عرب ان کے دورے کا اہم مرکز ضرور رہے گا لیکن امریکی صدر سے قطر کے موضوع پر کوئی بات نہیں ہو سکتی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں