36 اخوانیوں کی موت، پولیس افسر کو 10 سال سزائے قید

اندوہناک واقعہ پولیس وین میں پیش آیا تھا، تین اہلکار معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

مصری عدالت نے اخوان المسلمون کے 36 ارکان اور حامیوں کی موت کا ذمہ دار ایک پولیس افسر کو قرار دیتے ہوئے دس سال قید با مشقت کی سزا سنائی ہے۔ یہ کارکن پولیس کی ایک قیدیوں سے بھری ہوئی وین میں جیل سے منتقل کیے جا رہے تھے۔

واضح رہے یہ واقعہ پچھلے سال ماہ اگست کے دوران پیش آیا تھا۔ یہ اخوانی ارکان پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی صدارت سے معزولی کے بعد سامنے آنے والے احتجاج پر گرفتار کیے گئے تھے۔ ان کارکنوں کے ساتھ پولیس وین میں یہ اندوہناک واقعہ 18 اگست کو پیش آیا تھا۔ عدالتی ذرائع کے مطابق یہ کارکن گلا گھٹنے سے ہلاک ہوئے تھے۔

جبکہ وزارت داخلہ کا موقف ہے کہ یہ لوگ جیل سے بھاگنے کی کوشش میں مارے گئے تھے۔ اسی دوران ان فرار کی کوشش کرنے والے کارکنوں کی موت آنسو گیس سے دم گھٹنے سے ہوئی تھی۔

اس پولیس افسر کے علاوہ تین پولیس اہلکاروں کو ایک سال تک معطلی کی سزا سنائی گئی ہے۔ واضح رہے مرسی کی بحالی کے لیے مسجد رابعہ العدوایہ میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے کیے گئے خوفناک کریک ڈاون کے چار دن بعد ان کارکنوں کی ہلاکت کا واقعہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے ہاں موضوع بحث رہا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں