مصر:طلبہ کے حکومت مخالف مظاہرے،فائرنگ سے ایک ہلاک

جامعہ قاہرہ اور دوسری جامعات میں برطرف صدر ڈاکٹرمرسی کے حق میں مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مصر میں پولیس اور طلبہ مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔ملک کے مختلف شہروں میں جامعات میں معزول صدر محمد مرسی کے حامی طلبہ نے حکومت کے خلاف مظاہرے کیے ہیں۔

مصر کے شہر بنی سیوف میں وزارت صحت کے نائب سربراہ احمد انوار نے بتایا ہے کہ ''پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں ایک نوجوان عمروعلائی محمد گولی لگنے سے مارا گیا ہے''۔تاہم اس عہدے دار نے یہ نہیں بتایا کہ وہ مقتول کس کی گولی کا نشانہ بنا ہے۔

قاہرہ میں جامعات کے قریباً دوہزار طلبہ نے برطرف صدر محمد مرسی کے حق میں مظاہرے کیے ہیں۔انھوں نے پولیس کی جانب پتھراؤ کیا اور آتش بازی کی۔پولیس نے بھی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پتھراؤ کیا اور اشک آور گیس کے گولے پھینکے۔

واضح رہے کہ جولائی 2013ء میں مسلح افواج کے سربراہ عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے مصری جامعات میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور ان کی وجہ سے نئے سمسٹر کے آغاز میں بھی تاخیر ہوگئِی ہے۔جامعات میں نئے سمسٹر کا فروری میں آغاز ہونا تھا۔

مصر کی مسلح افواج کےتحت عبوری حکومت نے ہر طرح کے مظاہروں کی روک تھام کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں اور اخوان المسلمون کو دہشت گرد جماعت قراردے دیا ہے لیکن اس کے باوجود قاہرہ اور دوسرے شہروں میں جامعات کے طلبہ اور اخوان المسلمون کے حامیوں کے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ان کے خلاف مصری سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں چودہ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ سیکڑوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں