امریکا میں سفارت خانے کی بندش غیر قانونی ہے:شام

امریکی وزیرخارجہ نے شامی سفارتی مشنوں کی بندش کو درست قراردے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کی وزارت خارجہ نے واشنگٹن میں اپنے سفارت خانے اور دوسرے شہروں میں دو قونصل خانوں کی بندش کو غیر قانونی اور بلاجواز قراردے دیا ہے۔

وزارت خارجہ نے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا نے بالکل غیر منطقی اقدام کیا ہے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے حوالے سے ویانا کنونشن کی بھی واضح خلاف ورزی ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے واشنگٹن میں شامی سفارت خانے اور مشی گن اور ٹیکساس میں دو قونصل خانوں کی بندش کے فیصلے کو درست قراردیا ہے اور اس کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ یہ اقدام اسد رجیم کے مکمل طور پرغیر قانونی ہونے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

لیکن شامی وزارت خارجہ کا بیان میں کہنا ہے کہ امریکا کے اس فیصلے کا مقصد شام کو بیرون ملک اپنے شہریوں کو خدمات مہیا کرنے سے روکنا ہے۔اس سے شامی شہریوں کے مفاد کے منافی امریکی پالیسی کی عکاسی ہوتی ہے اور یہ شام میں دہشت گردی اور خونریزی کی حمایت میں امریکا کا ایک اور اقدام ہے۔

امریکا نے منگل کو واشنگٹن میں قائم شامی سفارت خانہ اور دوسرے شہروں مشی گن اور ٹیکساس میں قائم قونصل خانے بند کردیے تھے اور شامی سفارت کاروں اور دوسرے عملے کو ملک سے چلے جانے کا حکم دیا تھا۔

واضح رہے کہ واشنگٹن میں شامی سفارت خانہ کسی سفیر کے بغیر کام کررہا تھا۔وہاں تعینات شامی سفیر دسمبر 2011ء میں واپس چلے گئے تھے اور صرف نچلے درجے کا سفارتی عملہ موجود تھا جو محدود پیمانے پر قونصلر خدمات مہیا کررہا تھا۔

امریکی حکام نے شامی سفارت خانے اور قونصل خانوں میں تعینات غیرامریکی یا مستقل رہائش نہ رکھنے والے افراد سے کہا ہے کہ وہ فوراً امریکا سے واپس چلے جائیں۔تاہم اس فیصلے سے نیویارک میں اقوام متحدہ میں شامی مشن پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔البتہ امریکا نے 6 مارچ کو اقوام متحدہ میں متعین شام کے مستقل مندوب بشارالجعفری کی نقل وحرکت محدود کردی تھی اور وہ نیویارک سے پچیس مربع کلومیٹر کے علاقے سے باہر نہیں جاسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں