شامی یرموک کیمپ،دو ہفتے بعد اشیائے خورونوش کی تقسیم

128 پناہ گزین بھوک کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے زیر محاصرہ یرموک کیمپ میں موجود فلسطینی پناہ گزینوں تک انسانی بنیادوں پر رسائی کی اجازت مل گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ان پناہ گزینوں تک رسائی دو ہفتوں کے وقفے کے بعد ممکن ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کی بہبود کے لیے ادارے یو این آر ڈبلیو اے کے ترجمان کرس گنیس کے مطابق یرموک کیمپ میں منگل سے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے خوراک کی تقسیم شروع ہو گئی ہے۔

اب تک خوراک کے 465 تھیلوں اور ڈبل روٹی، جیم کے علاوہ چھوٹے بچوں کے لیے پولیو سے بچاو کی 2000 خوراکیں فراہم کی گئی ہیں۔ واضح رہے فلسطینی پناہ گزین یرموک میں جولائی 2013 سے زیر محاصرہ ہیں۔ ماضی میں یہ کیمپ ایک لاکھ ستر ہزار پناہ گزینوں کا مرکز تھا اور اب اس میں 18000 پناہ گزین موجود ہیں۔

جبکہ ہزاروں شامی شہری ان کے علاوہ ہیں۔ اس کیمپ میں افلاس اور بھوک زدہ ہزاروں افراد قطاروں میں لگ کر کھڑے رہنے پر مجبور ہیں۔ اقوام متحدہ کے متعلقہ ذمہ دار کا کہنا ہے کہ'' اب تک فراہم کی گئی اشیائے خور و نوش اس کیمپ کے لیے کافی نہیں ہیں۔'' انہوں نے مزید کہا ہمیں متاثرین تک رسائی جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل متفقہ طور پر درخواست کر چکی ہے کہ تمام متعلقہ فریق یرموک میں انسانی بنیادوں پر امدادی سامان پہنچانے کے لیے سازگار ماحول کا اہتمام رکھیں۔ اس کیمپ میں قریباً دو سو افراد دوران محاصرہ ہلاک ہو چکے ہیں۔جن میں سے 128 بھوک کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں