خلیج کے سفارتی تنازع حل کے لیے کویت کی مصالحتی کوششیں

معاملہ عرب سربراہ کانفرنس میں اُٹھایا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

تین خلیجی ملکوں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے قطر کے ساتھ سفارتی تنازع کے حل کے لیے کویت نے ثالثی کی کوششیں شروع کی ہیں۔ کویتی پارلیمنٹ کی خارجہ کمیٹی کے چیئرمین علی الراشد کا کہنا ہے کہ ان کا ملک تین برادر خلیجی ملکوں کے قطر سے سفیروں کی واپسی کے بعد پیدا ہونے والے تنازع کو ختم کرنے کے لیے تیار ہے۔

خارجہ کمیٹی کےاجلاس اور نائب وزیراعظم الشیخ صباح خالد الاحمد الصباح سے ملاقات کے بعد صحافیوں اور اخبار نویسوں سے گفتگو کرتےہوئے علی الراشد کا کہنا تھا کہ کویت، خلیجی ممالک میں سفارتی تنازع کے خاتمے کے لیے ہرممکن مفاہمتی کوششیں کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ خارجہ کمیٹی کے تازہ اجلاس میں بھی قطر سے سعودی عرب، یو اے ای اور بحرین کے سفیروں کی واپسی کے بعد پیدا ہونےوالی صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور خلیجی ممالک کے مابین سفارتی تعطل ختم کرنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں کویتی رُکن پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ ان کی نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے بھی ملاقات ہوئی ہیں۔ انہوں نے بھی باضابطہ طور پر سفارتی تعطل کے دائرے میں آنے والے ممالک کا موقف سُننے اور اختلافات دور کرنے کے لیے ثالثی کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس علاقے کے باشندے ہونے کے ناطے ہم سب بھائی بھائی ہیں۔ ہمارے درمیان تاریخی برادرانہ اور دوستانہ تعلقات رہےہیں۔ ہمارے مابین اختلافات پورے خطے کے عوام کے مفادات کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ہم پہلی فرصت میں اس تنازع کو دور کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کویت کی مفاہمتی مساعی کامیاب ہوسکیں گی تو انہوں نے اطمینان بخش لہجے میں کہا کہ ان کا ملک خلیجی ممالک میں پیدا ہونے والے کسی بھی تنازع کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہیں امید ہے کہ کویت کی مفاہمتی مساعی رائیگاں نہیں جائیں گی۔

مبصرین کے خیال میں کویت خلیجی ممالک میں متنازعہ معاملات کوافہام وتفہیم کے ذریعے حل کرانے میں مدد فراہم کرنے والا اہم ملک رہا ہے۔ موجودہ حکومت بھی قطر کے ساتھ دوسرے تین خلیجی ملکوں کے سفارتی تعطل کے خاتمے میں کویت اہم کرادار ادا کر سکتا ہے۔

کویت کے سیاسی امور کے تجزیہ نگار حسین الفیلکاوی نے"العربیہ" نیوزچینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی خلیجی ممالک بعض معاملات میں اختلافات کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ریاست اومان، قطر اور بحرین کے درمیان تنازعہ پیدا ہوا تو اس وقت بھی امیر کویت الشیخ صباح الاحمد نے تینوں ملکوں کے بیچ صلح صفائی کرا دی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں کویتی تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات کا قطر کے ساتھ سفارتی تنازعہ اتنا پیچیدہ نہیں کہ اسے حل نہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جلد ہی کویت میں عرب سربراہ اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ کویت اس اجلاس کے ایجنڈے میں خلیجی کے درمیان سفارتی تنازعہ ختم کرنے کا موضوع شامل کرے گا۔

الفلیکاوی کا کہنا تھا کہ حال ہی میں عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر نبیل العربی نے بھی عرب لیگ کے سربراہ اجلاس میں قطراور دوسرے خلیجی ملکوں کے بیچ اختلافات دور کرانے کی کوششوں کا یقین دلایا ہے اور یہ معاملہ سربراہ اجلاس میں اٹھانے کا کہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں