شامی فوج کا صلیبی دور کے قلعہ پر قبضہ،40 باغی ہلاک

سرحدی گاؤں پر قبضے کے بعد شامیوں کی بڑی تعداد کی لبنان کی جانب نقل مکانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شامی فوج نے باغیوں کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد لبنان کی سرحد کے نزدیک واقع صلیبی دور کے مشہور قلعہ پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ لڑائی میں کم سے کم چالیس باغی جنگجو مارے گئے ہیں۔

شام کے سرکاری ٹی وی نے ایک نشریے میں بتایا ہے کہ'' شامی عرب فوج نے صوبہ حمص میں واقع کراک دیس شیویلئیرز کے قلعہ پر قومی پرچم لہرا دیا ہے اور وہاں موجود دہشت گردوں کو کچل دیاہے''۔

لبنان کے ایک نجی ٹی وی چینل نے قلعے پر شامی فوج کے حملے کی فوٹیج نشر کی ہے جس میں فوجی قلعہ کی ایک برجی پر کھڑے دکھائے گئے ہیں۔صلیبی دور کے اس قلعے پر 2012ء سے باغیوں کا قبضہ تھا۔

صدر بشارالاسد کی وفادار فوج نے نزدیک واقع گاؤں الحصن میں باغیوں کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد اس قلعے پر قبضہ کیا ہے۔لڑائی میں کم سے کم چالیس باغی جنگجو مارے گئے ہیں۔ان میں ایک باغی گروپ جند الشام کا لیڈر خالد المحمود المعروف ابو سلیمان المہاجر بھی شامل ہے۔

شامی فوج نے الحصن میں باغیوں کے خلاف کارروائی کے دوران لبنانی علاقے کی جانب فرار ہونے والوں پر بھی توپ خانے سے گولہ باری کی ہے اور فوج کے ایک حملے میں ان میں سے گیارہ باغی جنگجو مارے گئے ہیں۔شامی فوج کے ایک اور حملے میں زخمی ہونے والے اکتالیس باغی ایک دریا عبور کر کے لبنانی علاقے کی جانب چلے گئے ہیں۔ایک لبنانی ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ انھیں ریڈکراس کی مدد سے اسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔

شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق الحصن سے لبنان فرار ہونے کی کوشش کے دوران ساٹھ افراد ہلاک یا زخمی ہوگئے ہیں۔ان میں شہری اور باغی دونوں شامل ہیں۔تاہم آبزرویٹری نے یہ نہیں بتایا کہ ان میں کتنے باغی ہیں۔

لبنان کے شمالی قصبے وادی خالد میں بھی آٹھ باغیوں کی لاشیں پہنچائی گئی ہیں یا وہ وہاں پہنچ کر اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گئے ہیں۔اس دوران شامی فوج نے وادی خالد میں ایک مکان پر توپ خانے سے گولہ باری کی ہے۔

شامی فوج حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ساتھ مل کر گذشتہ ہفتے کے دوران لبنان کی سرحد کے ساتھ واقع علاقے میں باغی جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کررہی ہے جس کے نتیجے میں شامی شہریوں اور باغیوں کی بڑی تعداد اپنا گھربار چھوڑ کر یا راہ فرار اختیار کرکے لبنان کی جانب جارہی ہے۔

شامی فوج نے گذشتہ ہفتے باغیوں کے زیر قبضہ یبرود پر قبضہ کر لیا تھا اور گذشتہ روزالحصن پر قبضہ کیا ہے جس کے بعد اس گاؤں کی قریباً تمام آبادی لبنان کی جانب چلی گئی ہے۔وادی خالد کے ایک ڈاکٹر طارق دنداشی نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ہزاروں شامیوں کی آمد کے بعد قصبے میں صورت حال بہت ہی خراب ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں