لبنان:شامی سرحد کے نزدیک مظاہرے کے بعد 15 افراد گرفتار

وادی بقاع میں اہل سنت اور اہل تشیع کی آبادی والے دو قصبوں میں کشیدگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

لبنانی فوج نے مشرقی قصبے عرسال میں پندرہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔اس قصبے میں گذشتہ ہفتے شام کے سرحدی قصبے یبرود پر اسدی فوج کے قبضے کے بعد شامی شہریوں اور باغیوں کی بڑی تعداد نے پناہ لے رکھی ہے۔

عرسال کی زیادہ تر آبادی اہل سنت پر مشتمل ہے اور اس کے نزدیک اہل تشیع کی آبادی والا قصبہ لیبوہ واقع ہے۔اس قصبے میں گذشتہ ہفتے راکٹ گرنے سے ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا۔

بدھ کو سرحد پار سے فائر کیے گئے راکٹ مشرقی لبنان کے دو علاقوں میں گرے ہیں۔تاہم ان سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔لیبوہ کے مکینوں نے عرسال کی ناکہ بندی کررکھی ہے اور انھوں نے دوسرے علاقوں کی جانب جانے والی شاہراہ کو بند کردیا ہے جس کے خلاف لبنان کے دوسرے علاقوں میں رہنے والے اہل سنت میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی اور انھوں نے احتجاجی مظاہرے شروع کردیے۔

دارالحکومت بیروت میں مظاہرین نے عرسال کی ناکہ بندی کے خلاف سڑکوں پر ٹائر جلائے اور مظاہرہ کیا۔مظاہرے کے دوران ایک شخص گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا جس کے خلاف اہل سنت مظاہرین نے بدھ کو مسلسل دوسرے روز دارالحکومت میں بعض شاہراہوں کو بلاک کردیا۔

لبنان میں اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان نئی کشیدگی کے تناظر میں صدر مشعل سلیمان نے وزیراعظم تمام سلام اور سینیر سکیورٹی عہدے داروں سے ملاقات کی ہے اور ان سے صورت حال بہتر بنانے کے لیے تبادلہ خیال کیا ہے۔

لیبوۃ کے مکینوں نے عرسال کے مکینوں پر راکٹ فائر کرنے کا الزام عاید کیا ہے حالانکہ راکٹ مبینہ طور پر سرحد پار شامی علاقے سے فائر کیے گئے ہیں۔اس دوران لبنانی فوج کو علاقے میں تعینات کردیا گیا ہے اور اس نے عرسال کو دوسرے علاقوں سے ملانے والی شاہراہ کو کھلوا دیا ہے۔لیبوۃ کے مکینوں نے فوج کی تعیناتی کا خیرمقدم کیا ہے ۔شیعہ ملیشیا حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان حسین الحاج حسن نے پارلیمان میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ایک ہی مطالبہ ہے اور وہ یہ کہ عرسال میں فوج تعینات کی جائے۔

واضح رہے کہ لبنان کے اہل تشیع اور ان کی جنگجو تنظیم حزب اللہ شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کررہے ہیں جبکہ اہل سنت شامی باغیوں کے حامی ہیں اور شام سے آنے والے اہل سنت کو اپنے ہاں عارضی قیام کی اجازت دے رہے ہیں ۔عرسال میں اس وقت اکاون ہزار شامی مہاجرین مقیم ہیں اور ان کی وجہ سے مقامی آبادی پر یہ بھی الزام عاید کیا جارہا ہے کہ وہ شامی باغیوں کو اپنے علاقے میں اڈے قائم کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔

گذشتہ روز مشرقی لبنان کی وادی بقاع میں حزب اللہ کی بالادستی والے دو قصبوں لیبوہ اور النبی عثمان میں سرحد پار سے فائر کیے گئے چار راکٹ گرے تھے جن کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہوگیا۔

لبنان کے شمالی شہر طرابلس میں بھی اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان تین سال قبل صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی احتجاجی تحریک کے آغاز کے بعد سے کشیدگی جاری ہے اور اس شہر میں آئے دن اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔گذشتہ جمعرات سے جاری حالیہ جھڑپوں میں اب تک تیرہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں