.

شامی جنگ میں مصروفیت، حزب اللہ کا اسرائیل کیلیے "امن کا پیغام"

انکشاف ایک خفیہ مراسلے میں کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے اسرائیل کو یقین دلایا گیا ہے کہ تنظیم کے جنگجو اس وقت شام کے محاذ جنگ میں مصروف ہیں، اس لیے تل ابیب کواس سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ یہ انکشاف حال ہی میں سامنے آنے والے ایک خفیہ مُراسلے میں کیا گیا۔

اخبار "الشرق الاوسط " کے مطابق خفیہ مُراسلے میں شام کے حوالے سے ہونے والے دوسرے جنیوا اجلاس سے قبل شامی نائب وزیر خارجہ فیصل المقداد اور ان کے روسی ہم منصب میخائل بوگدانوف کے درمیان ایک ملاقات کا احوال درج ہے۔ اس کے علاوہ روسی نائب وزیرخارجہ کی حزب اللہ کے سپریم کمانڈر حسن نصراللہ کے درمیان ہونے والی ملاقات کی تفصیلات بھی موجود ہیں۔ خفیہ مُراسلے میں حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل الشیخ حسن نصراللہ نے اسرائیلیوں کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ تنظیم شام کے محاذ جنگ میں مصروف ہے۔ اس لیے لبنان اور اسرائیل کےدرمیان سرحد "پرسکون" رہے گی۔

رُوسی نائب وزیر خارجہ بوگدانوف کا کہنا ہے کہ "شام کے حوالے سے دوسرے جنیوا اجلاس سے قبل لبنان کے صدر مقام بیروت میں میری کئی اہم رہ نماؤں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ان میں محمد رعد اور حسن نصراللہ کے ساتھ ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔ حسن نصراللہ کے ساتھ نصف شب ہونے شروع ہونے والی میٹنگ رات تین بجے تک جاری رہی۔

مُلاقات میں حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ شام میں ان کے دوستوں کو اسلحہ کی ضرورت ہے۔ ہم اسرائیل تک بھی یہ پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ ہماری تمام تر توجہ اس وقت شام کے محاذ جنگ پر مرکوز ہے۔ ہمیں لبنان۔اسرائیل سرحد پر کسی قسم کی کشیدگی پیدا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ حزب اللہ، لبنان کی طرف سے سرحد کو پرسکون رکھے گی۔ جماعت یہ سمجھتی ہے کہ ایسا اسرائیل کے بھی مفاد میں ہے کیونکہ اس وقت حزب اللہ کی تمام قوت شام کی جنگ میں مصروف ہے"۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شامی اور روسی حکام کے مابین ایک ملاقات گذشتہ برس 23 مئی کو بھی ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں شام کی جانب سے وزیر خارجہ کے مشیر احمد عرنوس، ماسکو میں شام کے سفیر ریاض حداد جبکہ روس کی جانب سے سیرگی فیرچنین شریک تھے۔ بعد ازاں روسی عہدیدار"فریچنین" نے بتایا کہ میں جلد ہی اپنے دورہ تل ابیب میں اسرائیلی حکام سے بھی ملاقات کروں گا۔ اسرائیل کے نام کوئی پیغام آپ بھجوانا چاہتے ہیں۔

اس کے جواب میں شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل المقداد نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے دمشق ہوائی اڈے اور جمرایا کے مقام پر حملوں کے بعد ہم صہیونی حکام کے نام کوئی پیغام نہیں بھجوا سکتے ہیں۔ ہمیں یقین ہوچکا ہے کہ شامی اپوزیشن اور اسرائیل کے درمیان خفیہ رابطے ہیں اور سرکاری فوج کی حمص ، درعا اور دمشق میں فاتحانہ پیش قدمی روکنے کے لیے اسرائیل سے حملے کرائے جاتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے اپوزیشن اور اسرائیلی خفیہ ادارے "موساد" کےدرمیان رابطے رہے ہیں۔ خفیہ مُراسلے میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی روسی صدر ولادی میر پوتین کے درمیان ہوئی ملاقات کا احوال بھی درج ہے۔ گفتگو کے دوران اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ شام میں ان کے "قابل اعتماد" جاسوس موجود ہیں جو وہاں کی پل پل کی خبریں ان تک پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری [اسرائیل کی] جانب سے شامیوں کے لیے پیغام یہ ہے کہ ہم کسی بھی نئی جارحیت کے جواب میں خاموش نہیں رہیں گے۔ آئندہ اگر شام کی جانب سے ایک راکٹ داغا جائے گا تو ہم اس کا جواب کئی میزائلوں سے دیں گے اور ہم کسی کو حالات سے فائدہ اٹھا کر اسرائیل پرحملوں کی اجازت نہیں دیں گے۔

فیرچنین کے مطابق روسی نائب وزیر خارجہ میخائل یوگدانوف نے کہا کہ اسرائیلی شام کے اندرونی معاملات میں ہرگز مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے"۔ اس کے جواب میں شام کے نائب وزیرخارجہ فیصل المقداد نے کہا کہ اسرائیل ہمارے ملک میں بمباری کر رہا ہے، کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی اور مداخلت اور قانون کی خلاف ورزی ہو گی؟"۔