.

نہر سویز بدامنی کیس: 26 اخوانی کارکنوں کو سزائے موت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک فوجی عدالت نے نہر سویز میں بدامنی اور تخریب کاری کے الزامات کے تحت اخوان المسلمون کے چھبیس کارکنوں کو ان کی عدم موجودگی میں سزائے موت سنائی ہے۔

سزا پانے والے تمام افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے نہر سویز بحری ٹریفک میں خلل ڈالنے اور شہریوں کی آزادانہ نقل وحرکت روکنے کے لیے ایک "دہشت گرد" تنظیم قائم کر رکھی تھی۔ اس کےعلاوہ ملزمان قومی وحدت اور ملکی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ عدالت نے ایک دوسرے ملزم محمد عبدالغفار کو پندرہ سال قید با مشقت کی سزا کا حکم دیا۔

خیال رہے کہ قاہرہ کی ایک فوجی عدالت میں اخوان المسلمون کے کارکنوں پر "نہر سویز" میں دہشت گردی سے متعلق مقدمہ کئی ماہ سے چل رہا تھا۔ اس مقدمہ میں ملزمان کو نہرسویز میں سفر کرنے والے بحری جہازوں پر حملوں، میزائلوں کی تیاری، سیکیورٹی ہیڈ کواٹرز کا گھیرا، دھماکہ خیز مواد تیار کرنے اور بھاری مقدار میں گولہ بارود رکھنے کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔

مصری عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سزا پانے والے ملزمان ملک میں تکفیری نظریات کے فروغ، حکومت کے خلاف بغاوت، مسلح افواج، پولیس، مسیحی برادری کی عبادت گاہوں اور سیاحوں پر حملوں پر اکسا رہے تھے۔