.

"اسیران کی رہائی کے بغیر مذاکرات میں توسیع ناممکن"

اسراِئیل کا یورپی پارلیمنٹرینز کو فلسطینی قیدیوں سے ملاقات کی اجازت دینے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے امرکی صدر اوباما سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل پر زور دیں کہ وہ مروان برغوثی سمیت تمام اہم فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے ۔ یہ بات فلسطینی حکام نے محمود عباس کی صدر اوباما سے پیر کے روز ہونے والی ملاقات کے حوالے سے بتائی ہے۔

اسی ماہ کے دوران اس سے پہلے محمود عباس کہہ چکے ہیں کہ فلسطین امن مذاکرات کیلیے مقرر کردہ ڈیڈ لائن 29 اپریل میں اس وقت تک توسیع کی حمایت نہیں کریں گا جب تک اسرائیل اس ماہ کے اواخر میں ہونے والی بات چیت میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی سے اتفاق نہیں کرتا۔

اس موقع پر پاپولر فرنٹ کے احمد سعدات، پی ایل او کے سیکرٹری مالیات فواد شباکی کی رہائی کیلیے بھِی بات کی گئی۔ واضح رہے مروان برغوثی کو 2000 میں ہونے والے انتفادہ کا بانی مانا جاتا ہے۔

جمعرات کے روز یورپی یونین کے پارلیمانی وفد نے بھی اسرائیل پر زور دیا ہے کہ طویل عرصے سے جیلوں میں بند فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ یورپی نمائندوں کا موقف تھا کہ یہ مشرق وسطی کے امن کیلیے قیدیوں کی رہائی اشد ضروری ہے۔

یورپی پارلیمانی وفد کے سربراہ ایمر کوسٹیلو نے کہا '' یہ ہمارا یقین ہے کہ اسیران کی رہائی امن مذاکرات کا بنیادی نکتہ ہے۔ واضح رہے یورپی وفد فلسطینی اسیران کے حوالے سے جان کاری کیلیے آجکل دورے پر ہے۔

پچھلے سال جولائی میں امن مذاکرات کے آغاز پر اسرائیل 104 فلسطینی اسیران کی رہائی پر متفق ہو گیا تھا۔ ان میں 78 اسیران کو اب تک رہا کیا جا چکا ہے۔ اسرائیلی وزراء نے دھمکی دی ہے کہ فلسطینیوں نے امن مذاکرات کیلیے ڈیڈ لائن کی توسیع سے اتفاق نہ کیا تو باقی قیدیوں کو رہا نہیں کیا جائے گا۔

اسرائیل نے جیلوں میں بند اسیران سے یورپی پارلیمنٹ کے ارکان کو ملاقاتوں کی بھی اجازت نہیں دی ہے۔ اب تک اس وفد کی صرف اسرائیلی پارلیمنٹ کے ارکان اور مقامی این جی اوز سے ملاقاتیں ممکن ہوئی ہیں۔