اسرائیل کا''دہشت گردوں''کی سرنگ دریافت کرنے کا دعویٰ

سرنگ طوفانوں کے نتیجے میں منہدم اور منکشف ہوئی تھی:حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیل نے دنیا کو غزہ کے ''دہشت گردوں'' کی ایک نئی سرنگ دریافت کرنے کا مژدہ سنایا ہے جو صہیونی ریاست کی حدود میں سیکڑوں میٹر اندر تک آتی تھی لیکن غزہ کی پٹی کی حکمران فلسطینی تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ یہ سرنگ بہت پرانی ہے اور حالیہ طوفانوں کے بعد اس کا پتا چلا تھا۔

اسرائیل فلسطینی مزاحمت کاروں کو دہشت گرد قراردیتا ہے حالانکہ وہ صہیونیوں کے اپنی سرزمین پر جبری قبضے کے خلاف برسوں سے جنگ لڑرہے ہیں۔اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل پیٹر لرنر نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ''یہ سرنگ محاصرے کا شکار فلسطینی علاقے سے اسرائیل کے اندر سیکڑوں میٹر تک کھدی ہوئی ہے اور اس کو دہشت گردی کے حملوں کے لیے بنایا گیا تھا''۔

صہیونی فوج کے ترجمان نے صحافیوں کو یہ نہیں بتایا کہ یہ سرنگ کہاں واقع ہے۔البتہ یہ کہا ہے کہ یہ کنکریٹ کی سلیبوں سے بنائی گئی تھی اور اس کی گہرائی چھے سے آٹھ میٹر تک ہے۔ترجمان کے بہ قول اس سرنگ کا انٹیلی جنس اور فوجیوں کی علاقے میں موجودگی کی وجہ سے پتا چلا ہے۔

لیکن غزہ کی حکمراں حماس تحریک کے عسکری ونگ نے اسرائیلی فوج کے ترجمان کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا طوفانوں کے نتیجے میں پتا چلا تھا ،اس کے دریافت ہونے میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کا کوئی کردار ہے اور نہ اسے ان کی سکیورٹی کامیابی گردانا جاسکتا ہے۔

عزالدین القسام بریگیڈز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''قبضہ گیر(مراد اسرائیلی فوج) جس سرنگ کو دریافت کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں،یہ بہت پرانی ہے اور یہ دوماہ قبل طوفان کے نتیجے میں تباہ ہوگئی تھی''۔بیان میں اس سرنگ کا محل وقوع بھی بتایا گیا ہے کہ یہ غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر خان یونس سے مشرق کی جانب واقع ہے۔

القسام بریگیڈز کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اعلان کا مقصد فلسطینیوں کے خلاف اشتعال پیدا کرنا اور غزہ کے خلاف فوجی جارحیت کو جائز ثابت کرنا ہے۔اسرائیلی حکام کے مطابق یہ سرنگ اسرائیلی علاقے میں ساڑھے چار سومیٹر تک اندر آتی تھی اور اس کو جنگجوؤں کے حملوں کے لیے گذرگاہ کے طور استعمال کیا جانا تھا۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے گذشتہ سال اکتوبر میں ایسی ہی ایک سرنگ پتا چلنے کے بعد غزہ کی پٹی کی جانب لائے جانے والے تعمیراتی سامان پر قبضہ کرلیا تھا۔اسرائیلی فوج نے حالیہ مہینوں کے دوران غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان سرحدی علاقے میں بنائی گئی متعدد زیرزمین سرنگوں کو فضائی بمباری کر کے تباہ کیا ہے۔یہ سرنگیں اسرائیلی محاصرے کا شکار غزہ کے مکینوں کو اشیائے ضروریہ کی فراہمی کے لیے استعمال کی جارہی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں