لبنان: دوسرے بڑے شہر طرابلس میں جھڑپیں، 5 افراد ہلاک

اہل سنت اور علویوں میں پھر کشیدگی، مسلح افراد کی ایک دوسرے پر فائرنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

لبنان کے دوسرے بڑے شہر طرابلس میں ایک مرتبہ پھر شامی صدر بشارالاسد کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان لڑائی چھڑ گئی جس میں مزید پانچ افراد ہلاک اور گیارہ زخمی ہوگئے ہیں۔

لبنان کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق طرابلس کی سنی آبادی والے علاقے باب التبانہ اور علویوں کے علاقے جبل محسن سے تعلق رکھنے والے مسلح افراد نے جمعہ کو ایک دوسرے پر فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں ایک ضعیف العمر شخص سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔رات فائرنگ کے نتیجے میں دو مسلح افراد زخمی ہوگئے تھے اور وہ جمعہ کو اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے ہیں۔

طرابلس میں اہل سنت اور علوی اہل تشیع کے درمیان گذشتہ ہفتے کے دوران جھڑپوں میں تیرہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔شہر میں گذشتہ جمعرات سے اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان کشیدگی پائی جارہی ہے اور اس کا آغاز اہل سنت کے علاقے باب التبانہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی موٹرسائیکل سواروں کے حملے میں ہلاکت کے بعد ہوا تھا۔

طرابلس میں آئے دن پڑوسی ملک شام کے صدر بشارالاسد اور ان کے خلاف برسرپیکار سنی باغی جنگجوؤں کی حمایت اور مخالفت کی بنا پر جھڑپیں ہوتی رہتی ہے۔لبنان کے اہل سنت شام کے باغی جنگجوؤں کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ علوی اپنے ہم مذہب صدر بشارالاسد کے حامی ہیں۔لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ شامی صدر کی حمایت میں باغیوں کے خلاف سرکاری فوج کے شانہ بشانہ جنگ میں شریک ہے۔

شام کی سرحد سے قریباً پچاس کلومیٹر دور واقع اس شہر میں باب التبانة اور جبل محسن کے مکینوں کے درمیان فرقہ وارانہ بنیاد پرماضی میں بھی خونریز جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔یادرہے کہ طرابلس کی 80 فی صد آبادی اہل سنت پر مشتمل ہے۔شیعہ علویوں کی تعداد 11 فی صد ہے۔ان دونوں گروہوں کے درمیان 1975ء سے 1990 تک جاری رہی خانہ جنگی کے دوران فرقہ وارانہ بنیاد پر خونریز جھڑپیں ہوئی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں