.

اسرائیل سمجھوتے کے مطابق قیدیوں کو رہا کرے:محمود عباس

فلسطینیوں کی عدم رہائی پر مذاکرات کی ڈیڈلائن میں توسیع نہیں کی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے چوتھے اور حتمی مرحلے کے تحت اپنی جیلوں میں بند قیدیوں کو رہا نہ کیا تو پھر ہم عالمی سمجھوتوں کے مطابق اقدام کے لیے آزاد ہوں گے۔

محمود عباس نے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں اپنی جماعت فتح کی مرکزی کمیٹی کے ارکان کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم قیدیوں کے چوتھے بیچ کی رہائی کے منتظر ہیں۔اس پر امریکا کے ذریعے اتفاق کیا گیا تھا''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم یہ کہہ رہے ہیں،اگر انھیں (فلسطینی قیدیوں کو) رہا نہیں کیا جاتا تو یہ سمجھوتے کی خلاف ورزی ہوگی اور اس سے ہم بین الاقوامی سمجھوتوں کی اقدار کے مطابق اقدام کے لیے آزاد ہوں گے''۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے جولائی 2013ء میں امریکی وزیرخارجہ جان کیری کی ثالثی میں فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ مذاکرات کے آغاز کے وقت طویل عرصے سے جیلوں میں بند ایک سو چار قیدیوں کی رہائی سے اتفاق کیا تھا لیکن اب تک ان میں سے اٹھہتر قیدیوں کو رہا گیا ہے۔رہائی پانے والے تمام قیدی بیس سال سے زیادہ عرصے سے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کررہے تھے۔

اسرائیلی وزراء سمجھوتے کے مطابق باقی ماندہ قیدیوں کو رہا کرنے کے بجائے فلسطینی اتھارٹی سے مذاکرات کی 29 اپریل کی ڈیڈلائن میں توسیع کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں اور یہ دھمکی دے رہے ہیں اگر ڈیڈلائن میں توسیع نہ کی گئی تو وہ باقی قیدیوں کو رہا نہیں کریں گے۔پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق ان فلسطینیوں کو 29 مارچ کو رہا کیا جانا ہے۔قبل ازیں اسی ماہ محمود عباس یہ کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل قیدیوں کو رہا نہیں کرتا تو فلسطینی امن مذاکرات میں توسیع پر رضا مند نہیں ہوں گے۔