ترکی نے سرحدی علاقے میں شام کا لڑاکا طیارہ مارگرایا

شامی فوج کا اپنی فضائی حدود میں ترکی پر جارحیت کے ارتکاب کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ترکی نے شام کے ایک جنگی طیارے کو سرحدی علاقے میں مار گرایا ہے جبکہ شامی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس طیارے کو باغیوں کے خلاف کارروائی کے دوران طیارہ شکن ہتھیار سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے شامی طیارہ مارگرانے پر فوج کو مبارک باد دی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر مستقبل میں ترکی کی سرحدی خلاف ورزی کی گئی تو اس پر سخت ردعمل کا اظہار کیا جائے گا۔

انھوں نے اتوار کو ترکی کے شمال مغربی علاقے میں اپنی جماعت کی ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ''ایک شامی طیارے نے ہماری سرحدی خلاف ورزی کی تھی۔ہمارے ایف سولہ طیارے نے اڑان بھری اور اس کو نشانہ بنایاہے کیونکہ اگر آپ میری فضائی حدود کی خلاف ورزی کریں گے تو پھر ہمارا تھپڑ مزید سخت ہوگا''۔

شامی فوج نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے اور اس کو ننگی جارحیت قراردیا ہے۔شام کے سرکاری ٹی وی نے ایک بے نامی فوجی ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ طیارے کو ترکی نہیں بلکہ شام کی فضائی حدود میں مارگرایا گیا ہے۔اس وقت وہ ساحلی صوبے اللاذقیہ میں باغی جنگجوؤں کو نشانہ بنا رہا تھا۔

شامی فوج کے ایک اور ذریعے نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ''ترک فوج نے ننگی جارحیت کا مظاہرہ کیا ہے اور یہ رجب طیب ایردوآن کی جانب سے دہشت گرد گروپوں کی واضح حمایت کا اظہار ہے۔ترکی نے شامی فوج کے طیارے کو اس وقت نشانہ بنایا تھا جب وہ شام کے سرحدی قصبے کسب میں دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کررہا تھا''۔

واضح رہے کہ ترکی شامی صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف برسرپیکار باغی جنگجوؤں کی حمایت کررہا ہے۔اس نے ایسے وقت میں شامی فوج کا طیارہ مارگرایا ہے جب وہ ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع ایک سرحدی گذرگاہ کا کنٹرول دوبارہ واپس لینے کی کوشش کررہی تھی۔اس بارڈر کراسنگ پر باغی جنگجوؤں نے گذشتہ جمعہ کو قبضہ کر لیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں